تازہ ترین

عظیم بزرگ حضرت بابا فرید گنج شکرؒ کے 778 ویں عرس کا آغاز


عظیم بزرگ حضرت بابا فرید گنج شکرؒ کے 778 ویں عرس کا آغاز





پاکپتن میں سلسلہ چشتیہ کے عظیم بزرگ حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ کے 778ویں سالانہ عرس کا آج 16 اگست کو آغاز ہوگیا ہے۔عرس کی تقریبات 15 روز تک جاری رہیں گی۔

کورونا وبا  کے خطرے کے پیش نظر اس سال عرس کی تقریبات کو محدود رکھا گیا ہے، دوسرے شہروں سے زائرین کو عرص میں شرکت کی اجازت نہیں ہوگی جبکہ بہشتی دروازہ بھی 2 دن علامتی طور پر کھولا جائے گا۔ پندرہ روزہ عرس کی تقریبات کا آغاز آج غسل، چادرپوشی اور دعا سے کیا گیا ہے۔

عظیم صوفی بزرگ اور شاعر بابا فرید الدین گنج شکر کا آصل نام مسعود اور لقب فرید الدین تھا، آپ کا شمار چشتیہ سلاسل کے معروف ترین بزرگان دین میں ہوتا ہے، سلسلہ چشتیہ میں سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نوازؒ کے بعد سب سے زیادہ شہرت آپ ہی کے حصے میں آئی۔

بابا فرید الدین گنج شکر عالم دین ہونے کے علاوہ عظیم صوفی اور مبلغ بھی تھے ، بعض مؤرخین انہیں پنجابی کا پہلا شاعر بھی قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے عربی، فارسی اور ہندی  زبان میں بھی شاعری کی ہے۔آپ نے رنگ، نسل اور مذہب سے بالاتر ہوکر ہمیشہ کل انسانیت کی بات کی۔


ان سے منسوب اکثر اشعار قرآن پاک کی آیات کی تفسیر اور احادیث کے تراجم پر مبنی ہیں اور سکھوں کی مذہبی کتاب گروگرنتھ صاحب میں بھی ایسے اشلوک ملتے ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بابا فرید الدین گنج شکر کا کلام ہے اور بابا گرو نانک نے اپنے کلام میں ان کی شاعری استعمال کی تھی۔

روایت ہے کہ کابل پر جب چنگیز خان نے حملہ کیا تو بابا فرید کےدادا ہجرت کر کے قصور میں قیام پذیر ہوئے تھے۔خود بابا فرید نے بادشاہوں کی قربت والی جگہ سے بے زار ہوکر پہلے دلی اور بعد میں ہانسی کو چھوڑا اور دریائے ستلج کے کنارے اس وقت کے اجاڑ علاقے اجودھن میں ڈیرہ لگایا جو آج پاکپتن شریف کے نام سے مشہور ہے

No comments