تازہ ترین

چینی فرانزک رپورٹ پبلک، ہیرا پھیری میں پاکستان کے 6بڑے گروپس کے نام


چینی فرانزک رپورٹ پبلک، ہیرا پھیری میں پاکستان کے 6بڑے گروپس کے نام 




پاکستان میں وفاقی کابینہ نے جمعرات 21مئی کو چینی بحران سے متعلق فرانزک رپورٹ پبلک کر دی ہے۔ کمیشن کی رپورٹ کے مطابق مبینہ طور پر پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والےجہانگیر ترین، شریف خاندان، گجرات کے چوہدری برادران، پنجاب اورسندھ کی حکومتوں نے ہیرا پھیری کی ہے۔

منظر عام پر آنے والی حتمی رپورٹ میں  جہانگیر ترین، مونس الٰہی، شہباز شریف اور ان کے اہل خانہ، اومنی گروپ اور خسرو بختیار کے بھائی عمرشہریار کے نام لئے گئے ہیں اور بتایا گیا ہے کہ ان شخصیات کی چینی ملز نے پیسے بنائے۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے وزیر اطلاعات شبلی فراز کے ساتھ پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ کمیشن کی رپورٹ سے واضع ہو جاتا ہے کہ شوگر ملز مالکان نے عام آدمی اور کسان کے ساتھ فراڈ کیا ہے۔

شہزاد اکبر کے مطابق کمیشن رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ گنے والے کسان کو مسلسل نقصان پہنچایا گیا، انھیں لوٹا گیا۔ شوگر ملز نے انتہائی کم قیمت کاشتکار کو ادا کی ہے۔ ملز مالکان نے جس وقت 140 روپے سے کم قیمت پر گنا خریدا اس وقت سپورٹ پرائز 190 روپے بنتی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ آڈٹ کے مطابق چینی کی فی کلو قیمت پر اوسطاً 13 روپے کا فرق سامنے آیا ہے۔سن 2018 میں ملز کی طرف سے 52 روپے 6 پیسے قیمت رکھی گئی جبکہ یہ 40 روپے 6 پیسے بنتی تھی۔

اسی طرح 2019اور20 میں یہ قیمت 62 روپے مقرر کی جبکہ کمیشن کے مطابق یہ قیمت صرف 46 روپے 4 پیسے بنتی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ کمیشن کے مطابق گنا کم قیمت پر خرید کر کاغذوں میں زیادہ قیمت دکھائی گئی ہے۔ ملز نے اپنے نقصان کو بھی اس پیداواری قیمت میں دکھایا ہے۔

No comments