سمارٹ لاک ڈاؤن عوام کی نظر میں
سمارٹ لاک ڈاؤن عوام کی نظر میں
جب سے پوری دنیا میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں
اضافہ ہوا تو ہم مختلف ممالک سے متعلق سنتے آئے ہیں کہ فلاں ملک نے لاک ڈاؤن لگا
دیا یا لاک ڈاؤن میں نرمی کر دی، مگر پاکستان میں سمارٹ لاک ڈاؤن کی اصلاح بہت
زیادہ استمعال ہو رہی ہے۔ لہذا ہم نے بھی یہ جاننے کی کوشش کی کہ سمارٹ لاک ڈاؤن
ہے کیا۔
جانچ پڑتال کے بعد معلوم ہوا کہ سمارٹ لاک ڈاؤن میں پورے
ملک، صوبے یا شہر کو بند نہیں کیا جاتا بلکہ شہر کے اس جھوٹے سے حصے یا چند گلیوں
کو بند کر دیا جاتا ہے جہاں پر کورونا وبا تشویشناک صورتحال اختیار کر جائے۔ ایسے
علاقے جہاں پر سمارٹ لاک ڈاؤن نافذالعمل ہوگا وہاں کے رہائشی صرف خاص ضرورت کےتحت
ہی علاقے سے باہر جا سکیں گے، جیسے کہ ایمرجنسی، کسی کی طبیعت خرابی کی صورت میں
ہسپتال منتقل کرنا ہو یا پھر روز مرہ کے دیگر بہت ضروری کام۔
سمارٹ لاک ڈاؤن کے دوران علاقے میں ایک خاص وقت تک ضرورت کی
چیزیں خریدنے کی غرض سے دکانیں کھلتی ہیں، جبکہ میڈیکل سٹور یا ڈسپنسری 24 گھنٹوں
کے لئے بغیر کسی پابندی کے کھولی جا سکتی ہیں۔
تاہم یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ کیا اس نئی اصلاح یعنی سمارٹ لاک ڈاؤن سے
رہائیشیوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا؟۔ لوگوں کی روزمرہ کے معمولات زندگی کتنے متاثر
ہوئے، اور سمارٹ لاک ڈاؤن سے کیا مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ اسی حوالے سے چند ایسے
لوگ جن کے علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن لگے ان سے تفصیل جاننے کی کوشش کی جو کہ درج
ذیل ہے۔
سی بلاک ماڈل ٹاؤن لاہور کے رہائشی اررون شہزاد نے بتایا کہ
سمارٹ لاک ڈاون کے دوران کوئی خاص مشکلات درپیش نہیں ہوئی، علاقے کے داخلی اور
خارجی راستوں کو مستقل آمدورفت کے لئے بند کر دیا گیا تھا۔ اور شناخت مکمل کرنے کے
بعد ہی کسی شخص کو اندر جانے کی اجازت دی جاتی تھی۔
اررون نے مزید بتایا کہ سمارٹ لاک ڈاون کے دوران ان کی روز
مرہ کےمعاملات خاص متاثر نہیں ہوئے اور وہ باآسانی اپنے کام کر رہے تھے۔ لیکن یہ
نظر بھی رکھی جاتی تھی کہ کوئی بلاوجہ باہر کھڑا نہ رہے، خاص کر گروہ کی شکل میں۔
ایسی صورت میں سختی سے پیش آیا جاتا تھا۔
فردوس مارکیٹ گلبرگ کے رہائشی لبا خان جو پاکستان آرمی سے
ریٹائر ہیں وہ اس حکومتی اقدام سے خوش نظر آئے۔ لبا خان نے بتایا کہ سمارٹ لاک
ڈاؤن کے دوران اگر خود کو وقت کا پابند کر لیا جائے تو مشکلات نہیں ہونگی، مارکیٹس
5 بجے بند کروانے پر سختی سے عمل ہوتا تھا، اور چھپ کر ہو رہے کاروبار کا سلسلہ
سمارٹ لاک ڈاؤن کے دوران بند ہوگیا تھا۔
لبا خان کے مطابق سمارٹ لاک ڈاؤن کے بہت سے فوائد ہیں۔ ان
کا کہنا تھا کہ جیسا کہ ہم سنتے آئے ہیں کہ کورونا وائرس کا واحد علاج احتیاط ہے،
اور سمارٹ لاک ڈاؤن لوگوں سے احتیاط کروانے کا ایک مثبت قدم ہے۔ ہم سے بات چیت میں
لبا خان نے عوام سے احتیاط کی اپیل بھی کی اور کہا کہ عوام سےمیری یہ درخواست ہے چونکہ اب یہ لاک ڈاؤن ان کے علاقے سے ختم ہو
چکا ہے لیکن عوام اس پر عمل کرتےہوئے احتیاط جاری رکھیں۔
نیو ملتان وی بلاک کے رہائشی طالب علم عبد المغیث کو سمارٹ
لاک ڈاؤن کی حکومتی سوچ تو پسند ہے، مگر انکے علاقے میں ہوئے لاک ڈاؤن کے دوران
ڈیوٹی پر معمور لوگوں کی نا اہلیوں سے مغیث نالاں نظر آئے۔
مغیث کے مطابق انکے محلے میں 4 داخلی و خارجی راستے ہیں،
اور سارے اہلکار صرف ایک ہی مرکزی راستے پر اکھٹے ہوکر وقت کا ضیاع کرتے تھے، جو
کہ نا صرف ڈیوٹی سے بد دیانتی ہے بلکہ سماجی فاصلے کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔
مغیث کا یہ بھی کہنا تھا کہ انکی گلی میں تعینات اہلکار بھی 2 دن تک موجود رہا اور
پھر غائب ہوگیا۔
طالب علم کے مطابق سمارٹ لاک ڈاؤن سے ان کے علاقے میں کوئی
خاص فرق نہیں پڑا لوگوں کی آمدو رفت معمول کے مطابق رہی اور بچے بھی اکثرو اوقات
گلی میں کھیلتے نظر آئے جن کو منع کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ ہاں مگر لوگوں کو ایک
تکلیف ضرور رہی وہ یہ کہ علاقے سے باہر جاتے وقت لوگوں کو اپنی مدد آپ کے تحت وہاں
پر لگا ہوا بیریئر ہٹانا اور واپس لگانا پڑتا تھا۔
صوبہ پنجاب کے 7 شہروں کے مزید علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن
حکومت کی جانب سے کورونا کی موجودہ صورتحال حال کو مد نظر
رکھتے ہوئے، لاہور سمیت پنجاب کے 7 شہروں کے مختلف علاقوں میں 9 اور 10 جولائی کی
درمیانی شب یعنی رات 12 بجے سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا۔ ان 7 شہروں میں لاہور،
ملتان، فیصل آباد، گجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ اور راولپنڈی شامل ہیں۔
سیکریڑی پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کے نوٹیفکیشن کے
مطابق لاہورمیں اے ٹو بلاک ٹاؤن شپ، ای ایم ایس
سوسائٹی، چونگی امرسدھو بازار سے ملحقہ علاقے ، پنجاب گورنمنٹ سرونٹ ہاؤسنگ سکیم ،
واپڈا ٹاؤن ، جوہرٹاؤن سی بلاک اورگرین سٹی میں سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ گیا ہے۔
فیصل
آباد میں پیپلز کالونی ون، انصار کالونی سمن آباد، آمنہ آباد، مدینہ ٹاؤن کے
ڈبلیو، ایکس اور وائے بلاک، مسلم ٹاؤن بی اور آئی بلاک، النجف کالونی، عبداللہ گارڈن،
ایڈن گارڈن، وارث پورہ چوک، ڈی ٹائپ کالونی، منڈی کوارٹرعلامہ اقبال کالونی، رضا
آباد اور رضا گارڈن میں سمارٹ لاک ڈاؤن لگایا گیا ہے۔
اسی
طرح جڑانوالہ میں نیا بازار، مین بازار، خریانوالہ بشمول سلطان مارکیٹ، لاہورروڈ
سے ملحقہ تمام گلیاں، مسجد بازاراور چرچ سے نشاط سنیماچوک تک روڈ کو بند کیا گیا
ہے۔
گوجرانولہ
میں واپڈا ٹاوَن، پیپلزکالونی ڈبلیو، وائی، ایکس اورزیڈ بلاک۔ سیالکوٹ کی
تحصیل ڈسکہ میں روراس روڈ میانہ پورہ ، توصیف مارکیٹ اور الیوسف پلازہ۔ ملتان
میں کلمہ چوک، سوئی ناردرن گیس پائپ
لائنزلمیٹڈ کالونی اور کسٹم آفس کالونی۔ جبکہ راولپنڈی میں ڈھوک کھبہ، گلستان
کالونی، رینج روڈ، ایریالین 4 پی آئی اے کالونی میں سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ رہے گا۔
مریضوں میں کمی کورونا کا زوال ہے یا سمارٹ لاک ڈاؤن؟
پاکستان
کے مختلف ابلاغی اداروں سے معلومات لینے کے بعد یہ بات عیاں ہےکہ پاکستان میں
گزشتہ چند دنوں میں کورونا متاثریں کی تعداد میں کمی کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے،
مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کورونا وباء کے مریضوں میں ہو رہی اس کمی کی وجہ کیا
ہوسکتی ہے، کیا ملک میں کورونا کا زوال شروع ہو چکا ہے یا یہ سمارٹ لاک ڈاؤن کی صورت
میں حکومتی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ کمی محض وقتی ہو۔
برطانوی نشریاتی ادارے کی جانب سے جولائی 2020 کے شروع میں جاری اعدادو سمار کے مطابق
پنجاب کے مختلف ہسپتالوں میں کورونا کے مریضوں کے لئے مختص کئے گئے بستر یا یونٹس
اب زیادہ تر خالی ہو چکے ہیں۔ تاہم ان مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنےمیں آٰیا
ہے جو کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد خود کو گھروں میں قرنطینہ کئے ہوئے ہیں۔








No comments