دنیا بھر کی اہم خبریں اس پوسٹ میں
دنیا بھر کی اہم خبریں اس پوسٹ میں
ایران کی عسکری تنصیبات پرپھر سے دھماکہ
ایران کے دارالحکومت تہران کے مغر بی علاقے میں آج صبح ایک
زوردار دھماکہ ہوا ہے۔ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی صداوسیمای کا کہنا ہے کہ اس
علاقے میں ایران کی ایلیٹ فورس پاسدران انقلاب سے متعلق اہم عسکری تنصیبات موجود
ہیں۔
جرمن نشریاتی ادارے ڈی ڈبلیو کا کہنا ہے کہ ایرانی صحافی حسن
ساری نے اس متعلق بتایا ہے کہ دھماکے میں ایک میزائل گودام کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ3 ہفتوں میں یہ لگاتار تیسرا
دھماکہ تھا۔ اس سے پہلےبھی 2 دھماکے فوجی تنصیبات اور نیوکلیئر ٹھکانوں میں ہوئے
تھے۔
افغانستان کی فضائیہ کا طيارہ تباہ ہو گیا
افغانستان کی ايئر فورس کا ايک اے29 سپر ٹوکانوطيارہ
تربيتی پرواز کے دوران گر کر تباہ ہو گیا ۔امريکی فوج کے ترجمان کا اس بارے کہنا
ہے کہ يہ طيارہ امريکی ایئر فورس کا پائلٹ اڑا رہا تھا جو اس واقع میں محفوظ ہے
جبکہ اس واقع کی مزید تفتیش جاری ہے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق یہ طيارہ فنی خرابی
کی وجہ سے گر کر تباہ ہوا تاہم امريکی اورافغان حکام کی جانب سے یہ نہیں بتایا گیا
کہ طيارہ افغانستان کے کس علاقے میں تباہ ہوا ۔
مقامی افراد کاکہنا ہے کہ افغانستان کے شمال
مشرقی صوبے بغلان میں ضلع دوشی کے قريب ايک طيارہ گر کر تباہ ہوا ہے ۔ یاد رہے کہ
اس علاقے میں طالبان کاکافی تعداد میں موجود ہیں۔
کورونا وائرس کا پھیلاؤ اور اقتصادی بحران
آج یعنی جمعہ کے دن يورپی يونين کے رکن ممالک
کے وزرائے خزانہ کا اہم اجلاس ہواہے۔یہ
اجلاس ويڈيو لنک کے ذريعےہوا جس میں
کورونا وائرس یعنی کووڈ19 سے ہو رہے مالی نقصانات
سے نمٹنے پربات چیت ہوئی اور یورپی یونین کے رکن ممالک کے وزرائے خزانہ نے مالی
بحران سے نمٹنے کے لئے اپنی اپنی رائے پیش کی۔
یاد رہے کہ کوروناوائرس کی وجہ سے آئے بحران سے يورپ بھر میں اقتصاديات ميں 8.3 فيصد کی
کمی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہاہے۔
عالمی ادارہ صحت کے 2ماہرین چين ميں موجود
ڈبلیو ایچ او یعنی ورلڈ ہیلتھ آرگینائزیشن کے 2 ماہرين اس وقت چین میں موجود ہیں جہاں وہ آئندہ2 دن گزاريں گے۔ماہرین
کے چین کے اس دورے کا مقصدکورونا وائرس کی وباءکے بارے تحقيقات کرنا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے ماہرين جاننا چاہتے
ہیں کہ يہ وائرس جانوروں سے انسانوں ميں کيسے منتقل ہوا۔دنيا بھر کے 120 سے زائد ملکوں
نے کووڈ 19 کی وبا کی تفتيش کے ليے عالمی ادارے پر زور دے رکھا ہے۔دیکھا جائے تو
یہ مشن ایک حساس نوعیت کا ہے کيونکہ امريکہ کی جانب سے ڈبليو ايچ او اور چين پرالزامات لگائے گئے ہیں
کہ ڈبلیو ایچ او نے اس سے معاملے سے عليحدگی اختيار کی ہے جبکہ امریکہ کا کہنا ہے
کہ چين نے وائرس کے پھیلنے کی اطلاع دينے ميں دیر کی ہے۔
بھارت میں کورونا وائرس کے نئے کیسز میں ریکارڈ حد تک اضافہ
دوسری جانب گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بھارت ميں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والوں کی
تعداد میں26ہزار500 سے بھی زائد کا ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔اس وقت بھارت دنیا کا تیسرا بڑا متاثرہ ملک ہےجہاں اب تک اس وبا سے متاثر ہونے والوں کی تعداد
8لاکھ 18 ہزار 6سو 47 تک جاپہنچی ہے۔کووڈ 19 سے بھارت بھر میں اب تک 22 ہزار 122
افراد ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔
پاکستان میں کورونا وائرس میں کمی
پاکستان بھر میں کورونا وائرس کی شدت میں
کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔اس وقت مجموعی طور پر اس وائرس سے ملک بھر میں 2لاکھ 43
ہزار600 کے قریب افراد متاثر ہو چکے ہیں جبکہ 5ہزار 58 اموات ہوئی ہیں۔گذشتہ 24 گھنٹوں
میں اس وائرس سے قریب 75 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔
پاکستان میں کورونا وائرس سے متعلق
معلومات فراہم کرنے والے ادارے این سی او سی کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران
پاکستان میں 2751 نئے کیسز رجسٹرڈ ہوئے ہیں۔ کووڈ 19 سے 1لاکھ 49 ہزار92 افراد
بلکل صحت یاب ہو چکے ہیں جو کہ ایک خوش آئند بات ہے تاہم اس وقت 89ہزار 4سو49 کے
قریب افراد زیر علاج ہیں جن میں سے 2ہزار3سو75 افراد کریٹیکل حالت میں ملک کے
ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔
امریکہ میں کووڈ 19 کے متاثرین میں بدستور اضافہ
بات کی جائے امریکہ کی تو اب تک کے
اعدادوشمار کے مطابق امریکہ میں اب تک اس وائرس سے مجموعی طور پر 32لاکھ 40 ہزار
424افراد متاثر ہو چکے ہیں جن میں سے 1لاکھ 36 ہزار 24اموا ت نوٹ کی گئی ہیں۔
گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اس وباء سے
متاثر 20 ہزار425 نئے کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ 202 سے زائد افراد ہلاک ہوئے
ہیں۔امریکہ بھر میں اب تک مجموعی طور پر 14لاکھ 26 ہزار645 افراد اس وباء سے صحت
یاب بھی ہو چکے ہیں تاہم 16 لاکھ77ہزار755افراد اب بھی زیر علاج ہیں جن میں سے
15ہزار 664 کی حالت انتہائی تشویش ناک ہے۔
کورونا وائرس سے متاثرین ممالک میں
امریکہ اس وقت سر فہرست ہے۔ برازیل، بھارت اورروس بالترتیب دوسرے، تیسرے اور چوتھے
درجے پر ہیں۔
بوسنیا کےمسلمانوں کے قتل عام کو25 سال گزر گئے
آج کے دن بوسنیا میں کئے گئے مسلمانوں کے
قتل عام کو25 سال مکمل ہو گئے ہيں۔اس سلسلے میں جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل اور فرانس
کے صدر ایمانوئل میکخواں نے ویڈیو کانفرنس سے ذریعے کوسووو اور سربیا کے رہنماؤں
سے بات چیت کی۔
اس ملاقات ميں يورپی يونين کے خارجہ امورکے چيف جوزف بوريل بھی شامل تھے۔واضع رہے کہ آج سے 25 سال قبل سربیا کی افواج نے
بوسنیا کے ہزاروں باشندوں کا قتل کیا تھا جن میں بڑی تعداد مسلمانوں کی تھی۔
فرانس نے مغربی اردن کو اسرائيل ميں ضم کرنے کی مخالفت کی ہے
دوسری
جانب مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کی جانب سے مغربی اردن کے علاقوں کو اسرائیل میں ضم
کرنے کے منصوبے کی فرانس نے مخالفت کر دی ہے۔اس بارے میں فرانس کے صدر ايمانوئل میکخواں
نے اسرائيل کے وزير اعظم بينجمن نيتن ياہو
پر زور ديا ہے کہ وہ فلسطين کے مقبوضہ علاقوں کو اسرائیل میں مزید ضم کرنے کے
منصوبے کو بند کریں اورمزیدآگے نہ بڑھيں۔
گذشتہ روز فرانسیسی صدر میکخواں نے
اسرائیلی وزیر اعظم کو ٹیلی فون کیا اور متنبہ کیا کہ ان کا ایسا کو ئی بھی قدم
انٹرنیشنل قوانین کے بلکل خلاف ہو گا۔ فرانسیسی صدر نے یہ بھی کہا کہ مغربی اردن
کے علاقوں کو اسرائیل میں ملانے سے مشرق وسطی کے اس دیرینہ مسئلے کے دو ریاستی حل
میں رکاوٹ ڈالے گا۔













No comments