ہم سفارتی تعلقات منقطع ہونے کی حقیقی وجوہات نہیں جانتے،قطر
ہم سفارتی تعلقات منقطع ہونے کی حقیقی وجوہات نہیں جانتے،قطر
قطرنےسعودی عرب اورمصرسمیت چھ عرب ممالک کی جانب سے اس کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کےاعلان کے بعد سفارتی تنازع کوختم کرنےکےلئے مذاکرات پرزوردیا ہے
واضح رہےکہ ان ممالک کی جانب سے قطرپردہشتگردوں کی معاونت کا الزام ہے۔ قطرکے وزیرخارجہ محمد بن عبدالرحمن الثانی کاایک ٹی وی انٹرویومیں کہناتھاکہ تمام ممالک کوبیٹھ کرمذاکرات کےذریعےاپنےاختلافات دورکرنےچاہئیں
قطری وزیرخارجہ سےاس بحران کی وجوہات کےبارے میں پوچھےگئےایک سوال کےجواب میں ان کاکہنا تھاکہ،ہم قطرکےخلاف پیداہونےوالےحیران کن تنازعےپر افسوس کااظہارکرتے ہیں، تاہم اس بحران کےپیچھےحقیقی وجوہات کےبارتےمیں نہیں جانتے
محمدبن عبدالرحمن الثانی کےمطابق اگراس بحران کےپیچھےاصل وجوہات تھیں تو ان پرگذشتہ ہفتےجی سی سی کےہونےوالےاجلاس میں بات چیت یابحث کی جاسکتی تھی تاہم اس اجلاس میں اس بارے میں کوئی بات چیت یابحث نہیں کی گئی اورنہ ہی ریاض میں ہونےوالےامریکی اسلامی عرب سمٹ میں بھی اس حوالےسےکچھ نہیں کہاگیا۔اگران اجلاسوں میں ایساکچھ تھابھی توہمارے پاس اس بحران کےپیداہونےکا کوئی اشارہ نہیں ہے
صحافی کےاس سوال پرکہ اس بحران کے بعدقطرکےامیرشیخ تمیم آج رات خطاب کرنےوالےتھےتاہم ان کاخطاب ملتوی کیوں کردیا گیاکےجواب میں شیخ محمدکاکہنا تھاکہ قطرکےامیرقطرکےلوگوں سےخطاب کرناچاہتےتھے،لیکن انہیں کویت کے امیرنےفوج کرکےاس بحران کوحل کرنےکےلئےاس خطاب کوملتوی کرنےکاکہا
اس سوال پرکہ اس بحران سےقطرکےامریکہ کےساتھ تعلقات کتنےمتاثرہوں گے شیخ محمدکاکہناتھاکہ قطرکےامیرکہ کےساتھ تعلقات سرکاری اداروں کےذریعے بنائےجاتےہیں جوکہ مضبوط ہیں۔قطراورامریکہ کےتعلقات مارجینل گروپس نہیں بناتےبلکہ امریکہ حکومت کےسرکاری ادارے یہ تعلقات بناتےہیں۔
ان کامزیدکہناتھاکہ ہمارےامریکہ کےساتھ سٹریجیٹک تعلقات ہیں اورہم مشرق وسطیٰ میں جاری دہشتگردی کےخلاف لڑائی میں اس کےمضبوط اتحادی ہیں

No comments