تازہ ترین

بارش سےروشنی کا شہر کراچی پانی اور تاریکی میں ڈوب گیا

بارش سے روشنی کا شہر کراچی پانی اور تاریکی میں ڈوب گیا






پاکستان کے صوبہ سندھ کا دارلحکومت اور روشنیوں کا شہر کراچی میں مون سون کے دوسرے سپیل سےجہاں موسم خوشگوار ہوا وہیں شہر کے مختلف علاقے  پانی  اور تاریکی میں بھی ڈوب گئے۔ قومی میڈیا سے لی گئی معلومات کے مطابق آج (17جولائی) ہوئی موسلا دھار بارش سے کراچی کے متعدد علاقے زیر آب آگئے جبکہ متعدد جگہوں کی بجلی بھی غائب رہی۔ جس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

واضع رہےکہ محکمہ موسمیات کی جانب سے یہ امکان ظاہر کیا گیا تھا کہ کراچی سمیت گردونواح میں 17 جولائی کی دوپہر کو مون سون بارش کا سلسلہ شروع ہوگا ۔ محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر سردار سرفراز نے بتایا تھا کہ کراچی میں بارشوں کا دوسرا سپیل دو روز تک جاری رہے گا جبکہ بارشوں سے قبل گرد آلود ہوائیں بھی چلنے کا امکان ہے۔



جس کے بعد یہ کہنا بالکل نامناسب نہیں ہوگا کہ آج یعنی جمعہ کے روز کراچی میں ہوئی بارش نے شہر کو پانی پانی کردیا اور مختلف سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں۔ سڑکوں پر پانی بھر جانے سے گاڑیاں خراب ہوئیں، ٹریفک جام رہی اور شہری پریشان ہوگئے۔ لہذاموسم برسات میں کراچی کی شہری انتظامیہ ہو یا متعلقہ ادارے سب کی غفلت عیاں ہوتی ہے۔

قومی میڈیا پر فراہم کردہ اعدادو شمار کے مطابق ای ایف فیصل بیس پرسب سے زیادہ 63 اعشاریہ 5 ملی میڑ بارش ہوئی ہے۔ اسی طرح کراچی کے علاقے صدر میں  صدر میں 41 ملی میٹر، گلشن حدید اور لانڈھی میں 40 ملی میٹر،ایم او ایس28 ملی میٹر،  یونیورسٹی روڈ میں 16ملی میٹر، جناح ٹرمینل میں 15 ملی میٹر، ناظم آباد میں 9 ملی میٹر اور مسرور بیس میں 5اعشاریہ7 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ کی گئی۔

علاوہ ازیں بارش کی وجہ سے آئی آئی چندریگر روڈ پر واقعہ بندق والا بلڈنگ مہندم ہوگئی ، بلڈنگ کےمہندم ہونے سے کوئی جانی نقصان تو نہیں ہوا مگر پاس کھڑی گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں۔


بجلی بھی غائب رہی




بارش سے جہاں کراچی میں سڑکیں زیرآب آنے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا رہا وہیں متعدد علاقوں کی بجلی بھی غائب رہی۔ جمعہ کے روز شہر میں کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش کے شروع ہوتے ہی بجلی کی فرہمی معطل ہوگئی۔  اطلاعات کےمطابق بارش کے شروع ہوتے ہی لیاقت آباد، گلبہار ، گلستان جوہر، لیاری  ، بلوچ کالونی ، بھٹائی آباد، گلشن اقبال فیڈرل بی ایریا کے مختلف بلاکس اور نارتھ کراچی میں بجلی کی فراہمی  معطل ہوگئی۔ جس سے شہریوں کو اذیت کا سامنا رہا۔

یاد رہے کہ کراچی میں بارش کی پہلی بوند پڑنے کے ساتھ ہی بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کا  شروع ہوجانا کوئی نئی بات نہیں ہے۔  شہریوں کا کہنا ہے کہ بارش کی پہلی بوند کے پڑتے ہی لمبے دورانیے کے لئے بجلی غائب ہوجاتی ہے ، بارش کے علاوہ بھی کراچی میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا مسئلہ موجود ہے جس سے دفتری اوقات اور روز مرہ کے معمولات میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔



گزشتہ دنوں 15 جولائی کو بھی  قومی میڈیا پر جاری کئے گئے اعدادو شمار کے مطابق کراچی میں بجلی کی طلب اور رسد کا فرق 300 میگاواٹ تک پہنچ چکا تھا۔ 15 جولائی کے اعدادو شمار کے مطابق کراچی شہر کو کےالیکڑک کی جانب سے 1800 اور نجی پاور پلانٹ کی جانب سے 3200 میگاواٹ بجلی فراہم  کی جارہی ہے۔ جبکہ کے الیکڑک کو نیشنل گریڈ سے 800 میگاواٹ بجلی فراہم کی جارہی ہے۔ اسطرح سے کراچی شہر کو 2900 میگاواٹ بجلی فراہم کی جارہی ہے جبکہ شہر کی مجموعی طلب 300 میگاواٹ ہے۔

دوسری جانب 15 جولائی ہی کے روز کے الیکڑک کے سی ای او مونس علوی نے میڈیا سے گفتگو کے دوران بتایا تھا کہ  اس وقت کراچی میں زیادہ سے زیادہ ساڑھے سات یا آٹھ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے۔ سی ای او کا کہنا تھا کہ آئندہ 10 سے 12 روز کے دوران شہر کے درجہ حرارت میں کمی کی بدولت بجلی کی طلب میں بھی کمی آئے گی، اور اسطرح سے شارٹ فال بھی کم ہوجائے گا۔


غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے متعلق وفاقی وزیر کا اعلان





اس سے قبل وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر نے 11 جولائی کو گورنر سندھ عمران اسماعیل اور سی ای او کے الیکڑک مونس علوی کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو رکرتے ہوئے کہا تھا کہ کل یعنی 13 جولائی بروز اتوار  سے بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی۔

اسد عمر نے بتا یا تھا کہ بن قاسم میں ایک سے زیادہ ایندھن سے چلنے والے کے الیکڑک کے چند یونٹس فرنس آئل سے چلائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ فرنس آئل کی سپلائی کو بھی بڑھا دیا گیا ہے اور اس وقت ان کے پاس پہلے سے زیادہ فرنس آئل موجود ہے جبکہ آئل کی سپلائی میں مزید اضافہ بھی کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر نے ساتھ ہی یہ بھی واضع کیا کہ اس سےکہیں یہ نتیجہ نہ اخذ کر لیا جائے کہ بجلی کی لوڈشیدنگ پیٹرولیم ڈویژن کی غلطی تھی حالانکہ ایسا بالکل نہیں ہے۔ اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ کراچی میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لئے فرنس آئل کے ساتھ ساتھ گیس کی سپلائی میں بھی اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔


چیئرمین نیب کا کے الیکڑک کے خلاف انکوائری کا حکم






دوسری جانب گزشتہ روز چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے عوامی شکایات اور میڈیا رپوٹس پر نیب کراچی کو کے الیکڑک کے خلاف انکوائری کا حکم دیا تھا۔ چیئرمین نیب کی جانب سے نیب کراچی کو کے الیکڑک کے خلاف انکوائری کا یہ حکم  غیر اعلانیہ اور طویل لوڈشیڈنگ ، اربوں روہے کی اوور بلنگ   اور حکومت کے ساتھ کئے گئے معاہدوں کی مبینہ طور پر پاسداری نہ کرنے کے الزام پر دیا گیا تھا۔

جسٹس  ریٹائرڈ جاوید اقبال نےنیب کراچی کو کے الیکڑک کے خلاف انکوائری تین ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایت کی تھی۔ اس کے ساتھ ہی نیب کراچی کو کے الیکڑک سے  معاہدوں کی نقول سمیت تمام متعلقہ دستاویزات اورسرمایہ کاری کی دستاویزات بھی حاصل کرنےکی ہدایت کی گئی تھی۔ واضع رہےکہ حکومت کے ساتھ کئے گئے معاہدے کے تحت کے الیکڑک نےبجلی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے مطلوبہ سرمایہ کاری کرنی تھی۔

یاد رہے کہ 6 جولائی کو کراچی میں مون سون کی پہلی بارش ہوئی تھی جس سے 6 افراد جاں بحق ہوگئے تھے، جبکہ شہر کے اکثر علاقوں میں حسب روایت بجلی بھی غائب رہی تھی۔ جبکہ کراچی میں موسلا دھار بارشوں کی وجہ سے سیلابی صورتحال کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔


No comments