ایک نظر ان دیکھے دشمن کورونا وائرس پر
ایک نظر ان دیکھے دشمن کورونا وائرس پر
دنیا
کواس وقت لاتعداد بیماریوں نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، اس وقت ایچ آئی وی سمیت چند
بیماریاں ایسی بھی ہیں جن کے بارے میں ماہرین کا کہنا کہ ان بیماریوں کے خلاف واحد
علاج احتیاط ہے۔ اس وقت ہم ایک ان دیکھے دشمن کے خلاف برسرپیکار ہیں، اس دشمن کو کورونا
وائرس یعنی کوڈ 19 کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔
کورونا
وائرس نے اس وقت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اگر اس وائرس کے پھیلاؤ پر
ایک نظر ڈالیں تو دنیا کے تقریبا 215 ممالک میں یہ وباء پھیل چکی ہے۔ اب تک (6جولائی)
دنیا میں اس وباء سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 1 کروڑ 16 لاکھ 52 ہزار کے قریب پہنچ چکی
ہے، جبکہ عالمی سطح پر کورونا وائرس سے متاثرہ 5 لاکھ 38 ہزار سے زائد لوگ ہلاک ہوچکے
ہیں۔
پاکستان
کورونا وائرس سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں 12 ویں نمبر پر ہے، 6 جولائی کی شام تک
اکھٹے کئے گئے اعدادو شمار کے مطابق پاکستان میں کوڈ 19 سے اب تک 2 لاکھ 31 ہزار
900 کے قریب لوگ متاثر ہوئے ہیں جبکہ 4 ہزار 762 افراد اس بیماری کی وجہ سے جان کی
بازی ہار چکے ہیں۔
آبادی
کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک چائنا کورونا سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں بائیسویں
(22) نمبر پر ہے، چائنا میں 83 ہزار 557 لوگ متاثر جبکہ 4 ہزار 634 ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔
کورونا سے متاثرہ ٹاپ 10 ممالک
کورونا
وائرس سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں امریکا پہلے نمبر پر ہے، عالمی طاقت امریکا میں
30 لاکھ ساڑھے 5 ہزار سے زائد لوگ متاثر ہوئے جبکہ 1 لاکھ 32 ہزار 684 ہلاکتیں ہوئی
ہیں۔ برازیل 16 لاکھ 13 ہزار متاثرین کے ساتھ فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے، جبکہ برازیل
میں اب تک کورونا سے 65 ہزار 120 ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔
کورونا
سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں بھارت کا تیسرا نمبر ہے، بھارت میں 7 لاکھ 19 ہزار
400 لوگ اس بیماری سے متاثر ہوئے ہیں تاہم بھارت میں ہلاکتوں کی تعداد 20 ہزار 173
ہے۔ اسی طرح فہرست میں 6 لاکھ 88 ہزار متاثرین کے ساتھ روس چوتھے نمبر پر ہے جبکہ پیرو
3 لاکھ 2ہزار 718 کورونا متاثرین کے ساتھ فہرست میں پانچویں نمبر پر ہے۔ چلی، سپین،
برطانیہ، میکسیکو اور ایران فہرست میں بالترتیب چھٹے، ساتویں، آٹھویں، نویں اور دسویں
نمبر پر ہیں۔
ایک نظر تاریخ پر
کوروناوائرس کی ابتداء کب اور کہاں سے ہوئی اس بارے میں حقائق ڈھونڈنا شاید مشکل ہو مگر
21 دسمبر سنہ 2019 کو چين ميں ووہان کے طبی حکام نے نمونیہ کی طرز کے ایک نئے وائرس
کی باقاعدہ تصديق کی اور بتایا کہ اس وائرس کی وجہ سے درجنوں مريض زير علاج ہيں۔ مگر
اس وقت تک ايسے شواہد موجود نہیں تھے کہ يہ وائرس انسانوں سے انسانوں ميں بھی منتقل
ہوتا ہے۔
اس
کے بعد 11 جنوری 2020 کو چينی حکام نے نئے وائرس کے باعث پہلی ہلاکت کی اطلاع دی۔ مرنے
والے شخص کی عمر 61 سال بتائی گئی۔ اطلاعات کےمطابق چین میں یہ صورتحال ان دنوں میں
رونما ہوئی جب سالانہ چھٹیوں کے لئے لاکھوں لوگ اندروں ملک سفر کرتے ہیں۔
ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن نے جنوری 2020 کے وسط میں کورونا وائرس کے بارے میں پہلی رپورٹ جاری
کی اور 20 جنوری کو جاپان، تھائی لینڈ اور جنوبی کوریا میں اس نئے وائرس کی تصدیق ہوئی۔
21 جنوری کو امریکا میں اس وائرس کا پہلا کیس اس وقت سامنے آیا جب ووہان سے امریکا
لوٹنے والے ایک شخص میں اس کی تشخیص ہوئی۔ 30 جنوری کے روز چین کے شہر ووہان کو مکمل
بند کر دیا گیا تھا جبکہ اس وقت تک وائرس 23 افراد کی جان لے چکا تھا۔
چین
سے باہر کسی ملک میں کورونا وائرس کے باعث پہلی ہلاکت 2 فروری کو ہوئی جبکہ اس وقت
تک چائنا میں ہلاکتوں کی تعداد 360 تک پہنچ چکی تھی۔ جس کے بعد 11 فروری کو ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے بتایا کہ کورونا وائرس کے باعث پھیپھڑوں میں پھیلنے والی بیماری کا نام
کوڈ 19 ہے۔ ایک ہی روز بعد یعنی 12 فروری تک یہ وائرس چین میں 11 سو سے زائد افراد
کی جان لے چکا تھا جبکہ اس تاریخ تک 24 کے قریب دیگر ممالک میں بھی کورونا وائرس کی
تصدیق ہو چکی تھی۔
ایک
چینی سیاح جس کی عمر 80 سال تھی 14 فروری کو فرانس میں اس وائرس کی وجہ سے ہلاک ہوا،
جوکہ کوڈ 19 کے باعث یورپ میں ہونے والی پہلی ہلاکت تھی۔ چین میں اس وقت تک ڈیڑھ ہزار
سے زائد ہلاکتیں ہو چکی تھیں۔
پاکستان میں پہلا کیس
پاکستانمیں اس وباء کا پہلا کیس 26 فروری کو سامنے آیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں یہ
بیماری ایران کے راستے اس وقت داخل ہوئی جب ایران سے کراچی لوٹنے والے ایک طالب علم
میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی۔ جس کے بعد 14 مارچ تک پورے ملک کے مختلف علاقوں سے
کیسز رپورٹ ہوچکے تھے۔
کورونا وائرس کی علامات
مختلف
ذرائع سے اس بیماری سے متعلق تفصیلی مطالعہ کرنے کے بعد ہم جو معلومات اکھٹی کر سکے
ہیں اس کے مطابق 80 فیصد کے قریب افراد میں کورونا وائرس کی معمولی علامات پائی جاتی
ہیں جبکہ 20 لوگ ایسے ہیں جن میں کورونا وائرس شدید نوعیت کا ہوتا ہے۔
اگر
اس وائرس کی علامات کی بات کی جائے تو ہماری معلومات کے مطابق یہ وائرس پھیپھڑوں کو
متاثر کرتا ہے اوراسکی دو بنیادی علامات بخار
اور مسلسل خشک کھانسی ہیں۔ صحت کے برطانوی قومی ادارے کے مطابق خشک کھانسی کا مطلب
گلے میں خراش پیدا کرنے والی ایسی کھانسی جس میں بلغم نہیں نکلتا۔
مسلسل
کھانسی کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی کھانسی عام حالات سے زیادہ ہو یا ایک دن کے 24 گھنٹوں
میں آپ کو کھانسی کے 3 یا 4 دورے پڑتے ہوں۔ اس بیماری میں سینے میں جکڑن اور سانس لینے
میں دشواری کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔ مختصر یہ کہ سردرد، مسلسل خشک کھانسی، سانس کا
پھولنا اور سانس لینے میں دشواری، پٹھوں میں درد، بخار اور تھکاوٹ اس بیماری کی علامات
ہو سکتی ہیں۔
کورونا
وائرس سے متاثرہ شخص کو پہلے بخار ہوتا ہے، پھر خشک کھانسی ہوتی ہے، ایک ہفتے بعد سانس
لینے میں مشکل پیش آتی ہے، جبکہ کچھ مریضوں کو طبیعت بگرنے کی صورت میں ہسپتال منتقل
کرنا پڑتا ہے۔
کرنا کیا ہوگا؟
کہتے
ہیں کہ اگر انسان کو اس بات کا پتہ لگ جائے کہ اس پر کوئی آفت آچکی ہے یا کہہ لیں کہ
کوئی ملک جان لے کہ جلد فضا سے اس پر کوئی بم گرنے والا ہے، تو وہ فضا سے گرنے والے
بم کو روک تو نہیں سکتا لیکن احتیاطی تدابیر اختیار کر کے نقصان کو کم سے کم ضرور کر
سکتا ہے۔ یوں تو کورونا بیماری کی بھی تاحال کوئی دوا دریافت نہیں ہوسکی ہے مگر اس
بیماری کے خلاف اگر کوئی علاج ہے تو وہ احتیاط ہی ہے۔
لہذا
اس بیماری سے خود کو اور دوسروں کو محفوظ رکھنے کے لئے سماجی فاصلہ لازمی رکھنا ہوگا،
محققین کا کہنا ہے کہ اگر اس بیماری سے 30 دن بعد جہاں 400 سے زائد لوگ متاثر ہونگے
وہیں سماجی فاصلہ رکھنے سے صرف 15 یا 20 افراد اس وائرس کی لپیٹ میں آئیں گے۔
اسی
طرح مارکیٹ یا دیگر مصروف مقامات پر جاتے وقت ماسک کا استعمال لازمی ہے ماسک کی بدولت
آپ صرف بیرونی جراثیم سے محفوظ رہ سکتے ہیں بلکہ کھانسی یا چھینک کے بعد اندرونی جراثیم
کو پھیلنے سے بھی روک سکتے ہیں۔ گھر سے نکلتے وقت یا گھر آتے ہیں بار بار صابن سے ہاتھ
دھونے ہونگے، ہینڈ سینیٹائرز کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔
کسی
بھی سطح کو چھونے کے بعد اپنی آنکھوں ناک اور منہ کو چھونے سے گریز کریں کیونکہ اس
طرح سے آپ وائرس سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ ایسے افراد کی قربت میں بھی مت جائیں جو کھانس
رہیں ہوں، چھینک رہے ہوں یا جنہیں بخار ہو۔ اگرایسے افراد کے پاس جانا مقصود ہو تو
کم سے کم 3 فٹ کا فاصلہ رکھیں۔ اگر آپ کو اوپر دی گئی کوئی بھی علامت محسوس ہو تو گھر
میں رہیں تاکہ دوسروں کو محفوظ رکھ سکیں، اگر بخار ہو، کھانسی یا سانس لینے میں دشواری
ہو تو فوری طبی امداد حاصل کریں۔








No comments