اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کی تازہ صورتحال، مختصر نظرماضی اور پالیسی پر بھی
اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کی تازہ صورتحال، مختصر نظرماضی اور پالیسی پر بھی
یہ
بات تو صاف ظاہر ہے اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کا معاملہ اب ایک مسئلہ بن چکا ہے
اور ہر کوئی اس بارے میں اپنی رائے رکھتا ہے، اس مسئلے پر غور کرنے کے بعد یہ اندازہ
لگانا مشکل نہیں ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی اکثریت اس مندر کی تعمیر کے خلاف
ہے۔ اور یوں بھی محسوس ہوتا ہے کہ بہت سے لوگوں کی خاموشی کی وجہ مندر کی تعمیر سے
متعلق کسی حتمی فیصلے کا انتظار ہے۔
اگر
معاملے کی تازہ صورتحال بتائیں تو 6 جولائی بروز سوموار کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے
وفاقی دارالحکومت میں مندر کی تعمیر کے خلاف دائر درخواستوں کے قابل سماعت ہونے یا نہ
ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
مندر
کی تعمیر کے خلاف چوہدری تنویر نامی شہری نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر
کی تھی۔ درخواست گزار کا موقف تھا کہ اسلام آباد کے ایچ 9 میں مندر کو دی گئی زمین
ماسٹر پلان کی خلاف ورزی ہے۔ گزشتہ کاروائی میں عدالت نے مندر کی تعمیر کو فوری روکنے
کی استدعا تو مسترد کر دی تھی مگر مذکورہ معاملے پر سی ڈی اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے
جواب طلب کر لیا تھا۔
اس
کے بعد 6 جولائی کی سماعت کے دوران عدالت کی جانب سے سٹی ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے)سے پلاٹ کے مقام اور مقصد سے متعلق استفسار کیا۔
جس
پر ڈائریکٹرسی ڈی اے نے جواب دیا کہ ہندو برادری کی فلاح وبہبود کے ادارے نے اسلام
آباد کے سیکٹر ایچ نائن ٹو میں مندر کی تعمیر کے لئے پلاٹ کی درخواست دی تھی، جس پر
2016 میں سماعت شروع ہوئی تھی، انہوں نے بتایا کہ سنہ 2017 میں 3.89 کنال کی یہ اراضی
ہندو برادری کو الاٹ کی گئی تھی، جبکہ 2018 میں یہ ہندو پنچایت کے حوالے کر دی گئی
تھی۔ یہ جگہ ہندو برادری کو مندر، کمیونٹی سینٹر یا شمشان گھاٹ کے قیام کی غرض سے الاٹ
کی گئی تھی۔
سماعت
کے دوران سی ڈی اے کی جانب سے عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ وزارت مذہبی امور، اسپیشل
برانچ اور اسلام آباد انتظامیہ کی تجاویزکے بعد ہی مندر کےلئے پلاٹ الاٹ کیا گیا تھا
اور اسی پلاٹ کے ساتھ مسیحی، احمدی، بدھ مت کمیونٹی کے لئے قبرستان کی جگہ بھی الاٹ ہوچکی ہے۔
عدالت
نے پوچھا کہ مندر کا نقشہ منظوری کے لئے آیا ہے کہ نہیں، جس پر سی ڈی اے حکام کا کہنا
تھاکہ یہ بات وثوق سے نہیں کہہ سکتے لیکن ان کی معلومات کے مطابق نقشہ ابھی تک منظوری
کے لئے نہیں آیا۔
سماعت
کے دوران ڈپٹی اٹارنی جنرل خالد محمود نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار کے بقول حکومت
نے مندر کی تعمیر کے لئے دس کروڑ روپے دئیے ہیں، مگر حکومت نے مندر کی تعمیر کے لئے
فنڈنگ نہیں دی لہذا درخواست گزار کے اس دعوے کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی
بتایا کہ حکومت نے مندر کے لئے فنڈنگ کے معاملے پر اسلامی نظریاتی کونسل سے سفارشات
مانگی ہیں۔
جس
پر درخواست گزار کے وکیل نے موقف اپنایا کہ مندر کی منظوری اور فنڈنگ دو الگ مسئلے
ہیں، حکومت نہ مندر کے لئے فنڈنگ دے سکتی ہے اور نہ ہی مندر بنانے کی منظوری دے سکتی
ہے۔
عدالت
نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں
فیصلہ محفوظ کر لیا۔
ایک مختصر نظر ماضی پر
یہ
بات واضع رہےکہ سی ڈی اے کی جانب سے 2017 میں اسلام آباد کے ایچ نائن ٹو میں 20ہزار
سکوائر فٹ کا پلاٹ ہندو پنجایت کو دیا گیا تھا، سی ڈی اے نے یہ پلاٹ قومی کمیشن برائے
انسانی حقوق کے حکم پر دیا تھا۔ تاہم متعلقہ اتھارٹیز سے دستاویزات کی منظوری اور سائٹ
میپ سمیت دیگر کاروائیوں میں تاخیر کے باعث تعمیرات کا کام شروع نہیں ہو سکا تھا۔
خیال
رہے کہ اسلام آباد کی ہندو پنچایت کی جانب سے مذکورہ مندر کا نام شری کرشنا مندر رکھا
گیا تھا۔
جبکہ
23 جون کو مندر کی تعمیر شروع کرنے کےلئے سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب منعقد ہوئی تھی،
پارلیمانی سیکریڑی برائے انسانی حقوق لال چند ملہی کی جانب سے مندر کا سنگ بنیاد رکھا
گیا تھا۔
قومی
میڈیا سے حاصل کی گئی معلومات کے مطابق گزشتہ دنوں وزیر برائے مذہبی امور پیر نورالحق قادری نے وزیراعظم سے ملاقات میں مندر کی تعمیر کے لئے گرانٹ کی درخواست دی تھی، جس
پر وزیر اعظم عمران خان نے مندر کی تعمیر پر 10 کروڑ روپے کی گرانٹ کی منظوری دی تھی۔
پالیسی کیا ہے؟
برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق سی ڈی اے کے پبلک ریلیشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر مظہر
حسین کا کہنا ہے کہ ایج نائن سیکٹر میں تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ اقلیتوں کو اپنی
مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لئے پلاٹ بھی دئیے گئے ہیں، یہ سیکٹر صرف رہائش یا کمرشل
بنیادوں کے لئے استعمال نہیں ہوتا۔
مظہر
حسین کے مطابق 2011 میں مندر کی تعمیر کےلئے درخواست دی گئی تھی، وزارت انسانی حقوق
کے ذریعے 2016 میں یہ درخواست سی ڈی اے کو بھجوائی گئی، ایک سال فائل پر کام ہونے کے
بعد 2017 میں یہ پلاٹ ہندو برادری کو الاٹ کیا گیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق مذکورہ جگہ
پر مندر کے علاوہ شمشان گھاٹ اور کمیونٹی سینٹر بھی تعمیر ہونا تھا۔
انہوں
نے یہ بھی بتایا کہ اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز میں اقلیتوں کے لئے آغا خانیوں کے سینٹر،
سیکٹر آئی ایٹ میں بہائی فرقے کے کمیونٹی سینٹر کے علاوہ مختلف سینٹر کام کر رہے ہیں،ڈپلومیٹک انکلیو میں بدھ مت کےلئے عبادت گاہ تعمیر کی گئی ہے۔ جبکہ دارلحکومت میں مسلمانوں
اور اقلیتوں کو مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لئے جو زمین دی جاتی ہے اور اس زمین کی
کوئی قیمت وصول نہیں کی جاتی۔
سیاسی اور مذہبی حلقوں کا رد عمل
اسلام
آباد میں مندر کی تعمیر کے حوالے سے سیاسی اراکین مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری پرویزالہی اور سپیکر پنجاب اسمبلی نے اس عمل کی مخالفت کی ہے۔ جبکہ مذہبی جماعتوں جمعیت علمائے اسلام (ف)، مرکزی جمعیت اہل حدیث اور اسلام آباد میں لال مسجد اور دیگر مدارس
سے وابستہ مذہبی رہنماؤں سمیت چند عام شہریوں کی جانب سے بھی مندر کی تعمیر کی شدید
مخالفت کی جارہی ہے۔
ادھرلاہور
کی جامع اشرفیہ سے وابستہ مفتی محمد ذکریا نے مندر کی تعمیر کے حوالے سے کہا ہے کہ
اقلیتوں کی عبادت گاہوں کی دیکھ بھال اور انھیں قائم رکھنا جائز ہے تاہم نئی عبادت
گاہوں کی تعمیر کی اجازت نہیں۔






No comments