یہ سندھی نہیں بلکہ ملتانی ثقافت کا ماسک ہے، بلاول بھٹو زرداری
یہ سندھی نہیں بلکہ ملتانی ثقافت کا ماسک ہے، بلاول بھٹو زرداری
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران جہاں مختلف ملکی امور پر بات کی وہیں انہوں نے
کرونا کی احتیاطی تدابیر کا خیال رکھتے ہوئے ایک منفرد ڈیزائن کا خوبصورت فیس ماسک
بھی پہن رکھا تھا۔
پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی نے ماسک کے متعلق بھی سوال
کیا کہ آپ نے سندھی ثقافت کا ماسک پہنا
ہوا ہے؟، جس پر بلاول بھٹو زرداری نے
صحافی کو بتایا کہ یہ سندھی ثقافت نہیں
بلکہ ملتانی اجرک کے ڈیزائن کا ماسک ہے۔ اسی دوران بلاول بھٹو زرداری نے صحافی سے پوچھا کہ آپ کا تعلق کس شہر سے ہے،
صحافی نے جواب دیا کہ میرا تعلق ملتان سے ہے۔ بلاول بھٹونے کہا کہ پھر تومیں آپ کی
اور ہم سب کی ثقافتی تشہیر کی ناکام کوشش کر رہا ہوں۔
پریس کانفرنس کے دوران بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستان
کا صوبہ پنجاب سب سے زیادہ وسائل رکھنے کی وجہ سے کورونا وبا پر بہتر طریقے سے
کنڑول کر سکتا تھا مگر پنجاب کی جو ٹیم ہے وہ ناکام ، نالائق اور نااہل ہے اس ٹیم
میں یہ قابلیت ہی نہیں ہے کہ وہ پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ چلالیں۔ اگر پنجاب کی
زراعت کو نقصان ہوگا تو پورے پاکستان کی فوڈ سکیورٹی پر اس کا اثر پڑے گا۔
پنجاب ہی کے ذکر کے دوران بلاول نے کہا کہ جو وزیراعلیٰ
پوچھتا ہے کہ کورونا کیسے کاٹتا ہے تو صوبے کا یہی حال ہوگا، کہا جا رہا تھا کہ
زرعی ایمرجنسی لگائی جائے گی، مگر کسان کو ایمرجنسی میں پہنچا دیا گیا ہے۔ وفاقی
اور پنجاب کی حکومت نے عوام کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ٹرانسپرنسی
انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کرپٹ ترین حکومت ہے تو ان کو لانے
کا کیا فائدہ؟
انہوں نے چیئرمین نیب سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا اور
کہا کہ اگرچیئر مین نیب نے سپریم کورٹ کا فیصلہ پڑھا ہے اور ان میں کوئی شرم و حیا
ہے تو وہ استعفی دےکر گھر چلے جائیں۔ نیب صرف مخالفین کے خلاف استعمال ہو رہا ہے،
نیب کا قانون کالا قانون ہے۔ نیب کو ختم کر دیں اور ادارے کو تالا لگا دیں۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ نیب حکومتی میگا کرپشن پر کوئی
کاروائی نہیں کر رہا، خورشید شاہ سمیت نیب کے تمام قیدیوں کو رہا کیا جائے۔ ان کا
یہ بھی کہنا تھاکہ بلاتفریق احتساب کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کو قانون سازی کرنی
چاہیے۔ اپنی پریس کانفرنس میں بلاول بھٹو نے
الیکشن میں دھاندلی اوراٹھارویں ترمیم
سمیت دیگر ملکی امور پر بھی بات کی۔


No comments