سپریم کورٹ کا سینئر صحافی مطیع اللہ جان کے اغواکا نوٹس
سپریم کورٹ کا سینئر صحافی مطیع اللہ جان کے اغواکا نوٹس
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سینئر صحافی مطیع اللہ جان کے
اغوا کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو ان کا
بیان ریکارڈ کرانے کا حکم دیا ہے۔
دراصل سپریم کورٹ
میں آج یعنی 22 جولائی کو صحافی مطیع اللہ
جان کے مبینہ توہین آمیز ٹوئٹس پر لئے گئے از خود نوٹس کیس کی سماعت تھی، سماعت کے
دوران ان کے گزشتہ روز ہوئے اغوا کا معاملہ بھی اٹھا، جس پر عدالت عظمیٰ نے نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پولیس کو عدالت طلب کر
لیا۔
دوران سماعت چیف جسٹس گلزار احمد نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ یہ سب کیا ہورہا ہے؟ اسلام آباد پولیس نے
مطیع اللہ جان کی بازیابی کے بعد اب تک ان کا بیان کیوں نہیں ریکارڈ کیا ، حکومت
اور اسلام آباد پولیس کیا کر رہی ہے۔ پولیس کی ذمہ داری ہے کہ ہر شہری کی جان اور
وقار کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ قانونی کاروائی شروع ہو چکی ہے،
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اغوا کے معاملے پرفوری کاروائی شروع کی گئی تھی۔ بعد
ازاں عدالت نے مطیع اللہ جان کا بیان قلمبند کر کے قانون کے مطابق کاروائی کرنے
اور آئی جی اسلام آباد کو آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس
نے مطیع اللہ جان سے استفسار کیا
کہ آپ نے توہین عدالت کے معاملےپر جواب جمع کرا دیا ہے؟جس پر سینئر صحافی کا کہنا تھا کہ اغوا کے باعث وقت نہیں ملا لہذا
کچھ وقت دیا جائے۔عدالت نے انہیں جواب جمع کرانے اور اپنے لئے وکیل کرنے کا وقت
دیتے ہوئے کیس کی سماعت 2 ہفتوں کے لئے ملتوی کر دی۔
یاد رہےکہ21 جولائی کو اسلام آباد کے سیکٹر جی6 میں ایک
سرکاری سکول کے باہر سے صحافی مطیع اللہ جان کو اغوا کر لیا گیا تھا۔ انکی اہلیہ
نے میڈیا کو بتایا تھا کہ انکی گاڑی سکول کے باہر ہی کھڑی تھی، جس میں مطیع کا ایک
موبائل بھی موجود تھا۔ تاہم اغوا ہونے کے تقریبا 12 گھنٹے بعد منگل ہی کی رات مطیع اللہ جان گھر واپس پہنچ گئے تھے۔


No comments