آستانہ میں وزیر اعظم نواز شریف کی مصروفیات
آستانہ میں وزیر اعظم نواز شریف کی مصروفیات
شنگھائی تعاون کونسل کی سربراہ کانفرنس کا اجلاس جمعہ کے روز قازقستان کے دارلحکومت آستانہ میں آج شروع ہو رہا ہے۔ آپ کو یہ واضح کر دیں کہ اس سربراہ کانفرنس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان سیکیورٹی اور تجارتی تعاون کوبڑھانا اور دہشتگردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل جوڑنا ہے۔ رواں برس شنگھائی تعاون کونسل کی چیئرمین شپ چین سنبھالے گا۔یہ بھی واضح رہے کہ اس مرتبہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں پاکستان اور بھارت کو تنظیم کی مستقل رکنیت بھی دی جائے گی
وزیر اعظم نواز شریف "جووفد کے ہمراہ دو روزہ سرکاری دورے پر آستانہ میں موجود ہیں"مختلف ممالک کے سربراہان سے ملاقاتیں کر چکے ہیں،جبکہ اطلاعات کے مطابق نواز شریف روس کے صدر سمیت دیگر سے بھی ملاقاتیں کریں گے
اپنے دورے کے آغاز میں نواز شریف نے ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف اور قازقستان کے صدر نور سلطان نذر بایوف سے الگ الگ ملاقاتیں کیں جس میں دونوں ممالک کے مابین تجارتی روابط کو بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا
آستانہ میں ہونے والے ایک کنسرٹ میں، نواز شریف اور نریندر مودی میں غیر رسمی ملاقات ہوئی جس میں بھارتی ہم منصب نے ان کی طبیعت اور خاندان کے بارے میں دریافت کیا۔یہ کنسرٹ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کے لئے آنے والے سربراہان مملک کے اعزاز میں منعقد کیا گیا تھا
پاکستانی وزیراعظم نے افغان صدر اشرف غنی سے بھی ملاقات کی جو ایک گھنٹے تک جاری رہی۔محدود معلومات کے مطابق ا شرف غنی سے ملاقات میں وزیراعظم نے واضح کیا کہ اگر افغانستان کابل حملے کا الزام پاکستان پر عائد کر رہا ہے تو اس کے واضح ثبوت دے محض الزامات نہ لگائے۔ پاکستان کی سرزمین نہ ہی افغانستان کے خلاف استعمال ہوئی اور نہ مستقبل میں ہوگی۔ پاکستان کی خواہش ہے کہ افغانستان میں دیر پا امن قائم ہو۔وزیراعظم نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ انٹرنیشنل بارڈر بنانے پر غور کر رہا ہے تاکہ افغان سرزمین سے دہشتگردوں کی بیج کنی کی جائے
نواز شریف نے اقوام متحدہ کے سیکریڑی جنرل انتونیو گوتریس سے بھی ملاقات کی ہے۔اطلاعات کے مطابق نواز شریف نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو مسئلہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم، پاکستان میں براہ راست اور افغانستان کے ذریعے بالواسطہ بھارتی مداخلت اور دہشتگردی سے متعلق تفصیلی طور پر آگاہ کیا






No comments