تجھ سا کہاں سے لاؤں میں، کچھ ایدھی کی یاد میں
تجھ سا کہاں سے لاؤں میں، کچھ ایدھی کی یاد میں
شفقت کا ہاتھ سب کے سر پر رکھا، محبت بانٹی اور دوسروں کے
غم میں شریک رہے۔ انسانیت کے لئے اپنے آپ کو وقف کرنے، خدمت خلق میں اپنا نام روشن
کر دینے والے، دکھی انسانیت کے مسیحا اور لا وارثوں کے وارث عبدالستار ایدھی کو ہم
سے بجھڑے 4 سال بیت چکے ہیں۔ وہ 8 جولائی 2016 بروز جمعہ کی شب دنیا سے کوچ کر گئے
تھے۔
اگر بات کی جائے انسانیت کی تو عبدالستار ایدھی کے لئے کی
جانے والے ہر تعریف شائد ماند پڑھ جائے۔ 6 دہائیوں تک خدمت خلق میں مصروف رہے۔
ایدھی انتقال کے وقت بھی 20 ہزار بچوں کے سرپرست کے طور پر رجسٹرڈ تھے۔ ان بچوں کا
تو کیا کہیے مگر جس دن ایدھی صاحب کا انتقال ہوا تو عام شہریوں کی زبان پر یہ
الفاظ تھے کہ آج ہم یتیم ہوگئے۔
قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ عبدالستار ایدھی کے انتقال پر
بھی ملک بھر میں ایدھی فاؤنڈیشن کی جانب سے امدادی کام نہیں روکا گیا تھا، حتیٰ کہ
کراچی کے علاقے میٹھا در میں واقع ایدھی کے رہائش گاہ میں جب انکی میت موجود تھی
اس وقت بھی عمارت کی ڈسپنسری کھلی تھی اور وہاں پر موجود ڈاکٹرز معمول کے مطابق
ڈیوٹی کر رہے تھے۔
سنہ 2013 میں گردوں کے عارضے میں مبتلا ہونے کے باوجود بھی عبد
الستار ایدھی نے انسانیت کی خدمت کا مشن جاری رکھا۔ انہوں نے کراچی میں سپر ہائی
وے پر واقع لاوارث بچوں، بزرگوں اور ذہنی مریضوں کے گھر کے ایک ویران کونے میں خود
اپنی قبر تیار کروائی تھی، جہاں پر وہ سپرد خاک ہیں۔
اصلاح کی غرض سے ایدھی کی کہی چند باتیں
عبدالستار ایدھی نے ساری زندگی صرف انسانیت کی خدمت ہی نہیں
کی بلکہ ہر اس پلیٹ فارم پر جہاں انہیں بولنے کا موقع ملا صرف انسانیت کا ہی درس
دیا۔ ایدھی زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے مگر ان کی کہی باتوں میں تجربہ، سچائی اور
صاف گوئی عیاں رہی۔ انہوں کسی نہ کسی طرح ہمیشہ انسانیت سے محبت اور انسانیت کی
خدمت کا ہی درس دیا، اور وہ خود انسانیت کا عملی نمونہ بھی تھے۔ ان کی کہی ہر بات کی معنی خیز ہے جس کا اندازہ
ذیل میں درج چند باتوں سے لگایا جا سکتا ہے۔
ایدھی کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک کو کیپیٹلسٹ چلاتے ہیں، یہ
زمیندار، جاگیردار، سرمایہ دار کبھی بھی ملک کو اچھا نہیں چلنے دیں گے، قائد اعظم
بچ گیا لیاقت علی خان کو گولی لگ گئی اس کے بعد جو بھی کوئی آیا مار دیا، یہ
زمینداروں، جاگیرداروں کا خاص دھندہ ہے۔
سارے مسائل کی بنیادی وجہ دولت کی غیرمنصفانہ تقسیم ہے۔
ہمارے ہاں غربت اور مفلسی دولت کی غلط تقسیم کی وجہ سے ہے،
فضول خرچی کرنے والے زیادہ ہیں، غریب کی مہانہ 6 ہزار اجرت ہے اور وہ چائے، گٹکا،
بیڑی کی وجہ سے دن میں 100 روپیہ خرچ کر دیتا ہے۔ کہاں سے غریبی مٹے گی، کہاں سے
انقلاب آئے گا اور شعور پیدا ہوگا میں اس کو اجاگر کرتا ہوں۔
پاکستان ہمارا ملک ہے اس کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہ کرنا،
جو کام کرنا ہو ایمانداری سے کرنا ، پاکستان جیسی کوئی قوم نہیں۔ سیاسی، مذہبی، یہ
ملاں ازم اس کو چھوڑ دینا چاہیئے اور انسان بن کر انسانیت کے لئے کام کرنا چاہیئے۔
اگر آج میں کسی کو 100 روپیہ دیتا ہوں تو میرے پاس لاکھوں
جمع ہو جاتے ہیں، یہ خدائی سودا ہے، اگر ہم خدا کے بن جائیں تو وہ بھی ہماری مدد
کرتا ہے۔
ایدھی نے بتایا کہ میرے ماں اور باپ نے مجھے نصیحت کی تھی کہ سڑک پر بھیک مانگ لینا مگر کبھی بھی کسی کے پاس پیسہ مانگنے مت جانا، قوم میں شعور پیدا کرو، میں یہ چاہتا تھا کہ قوم کو دینے والا بناؤ، جس کے لئے میں نے فٹ پاتھ پر کھڑے رہ کر بھیک مانگی۔ میں نے یہ اصول بنایا کہ زندگی بھر سادگی رکھوں گا، ایک ہی قسم کے کپڑے پہنوں کا اور انسانیت کےلئے کام کروں گا۔ کوئی بھی بوڑھا، جوان، پاگل، معزور، بچہ یا کوئی بھی ضرورت مند میرے پاس آیا رکھ لیا، کبھی کوئی سوال نہیں کیا۔
انسانیت کی خدمت سے سرشار ایدھی بولے کہ مولوی مجھے بے دین
بولتے ہیں، بولنے دو، مجھے تو ویسے بھی جہنم میں جانا ہے کیونکہ جنت میں تو سارے
خوشحال ہونگے میں جہنم میں جا کر دکھی لوگوں کی خدمت کروں گا۔
مختصر کہانی ایدھی کی زندگی پر
عبدالستار
ایدھی 28 فروری 1928ء کو بھارت کی ریاست گجرات کے شہر بانٹوا میں پیدا ہوئے۔ انہوں
نے11برس کی عمر میں اپنی ماں کی دیکھ بھال کا کام سنبھالا جو ذیابیطس میں مبتلا
تھیں۔ انہوں نے والدا کی بہت خدمت کی اور یہیں سے ان کی زندگی میں انقلاب آیا۔
والدا کی وفات ہوئی تو ضرورت مندوں کے لئے کچھ کرنے کا احساس ہوا۔ کام بہت بڑا تھا
مگر عمر بہت کم۔
تقسیم
ہند کے بعد ان کا خاندان بھارت سے ہجرات کر کے پاکستان آیا اور کراچی میں آباد
ہوا، سنہ 1951 میں ایدھی نے اپنی جمع پونجی سے ایک چھوٹی سی دکان خریدی اور وہاں
ایک ڈسپنسری بنائی۔ 1957 میں جب کراچی میں بڑے پیمانے پر فلو کی وبا پھیلی تو
ایدھی نے دل کھول کر امدادی کاموں میں حصہ لیا اور مفت ادویات بانٹی۔
ان
کے کام کو دیکھتے ہوئے لوگوں نے بھی ان کی خوب امداد کی، امدادی رقم سے عبدالستار
ایدھی نے وہ پوری امارت خرید لی جہاں پر ڈسپنری تھی، انہوں نے اس عمارت میں ایک
زچکی سینٹر اور نرسوں کے لئے ٹرینگ سکول کھولا، یہی سے ایدھی فاؤنڈیشن کی بنیاد
پڑی۔
فلو کی وباء کے بعد امدادی رقم سے ایدھی نے ایک ایمبولینس
بھی خریدی جسے وہ خود چلاتے تھے اور ان کی وفات سے پہلے تک ان کے پاس 600 سے بھی
زیادہ ایمبولینسس تھیں جو پورے ملک میں امدادی کام سرانجام دے رہی ہیں۔ ہسپتال اور
ایمبولینس کے علاوہ ایدھی فاؤنڈیشن نے کلینک، زچکی گھر، پاگل خانے معذروں کے لئے
گھر، یتیم خانے، لاوارث بچوں کو گود لینے کے مراکز، پناہ گاہیں اور سکول بھی کھول
رکھے ہیں۔ یہ فاؤنڈیشن نرسنگ اور گھر داری کے کورس بھی کرواتی ہے۔
بین الاقوامی اعزازات
عبدلستار ایدھی کو 1986 میں عوامی خدمات پر رامون مگسے سے
کے اعزاز سے نوازا گیا، سنہ 1988 میں انہیں لینن امن انعام دیا گیا، 1992 میںروٹری انٹرنشنل فاؤنڈیشن کی طرف سے پال ہیرس فیلو کا اعزاز دیا گیا۔ دنیا کی سب سے
بڑی رضاکارانہ ایمبولینس سروس کے طور پر سنہ 2000 میں گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں
ان کا نام آیا۔ سنہ 2000 میں ہی انہیں متحدہ عرب امارات کی جانب سے ہمدان اعزاز
برائے عمومی اور طبی خدمات دیا گیا۔
اس کے علاوہ انہیں سنہ 2000 میں بین الاقوامی بلزان اعزاز، 2006
میں انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کراچی کی جانب سے اعزازی ڈاکٹریٹ ڈگری، سنہ
2009 میں یونیسکو مدنجیت سنگھ اعزاز اور 2010 میں احمدیہ مسلم امن اعزاز سے بھی
نوازا گیا۔
قومی اعزازات
عبدلستار ایدھی کو کالج آف فزیسنز اینڈ سرجنز پاکستان کی
جانب سے سلور جوبلی شیلڈ، سنہ 1989 میں حکومت سندھ کی جانب سے سماجی خدمت گزار
برائے برصغیر ایوارڈ، نشان امتیاز اور محکمہ صحت کی جانب سے بہترین خدمات کا
اعزاز، 1992 میں پاکستان سوک سوسائٹی کی جانب سے پاکستان سوک اعزاز بھی مل چکے
ہیں۔
آپ پاک فوج کی جانب سے اعزازی شیلڈ، پاکستان اکیڈمی آفمیڈیکل سائنس کی جانب سے اعزاز خدمات اور پاکستانی انسانی حقوق معاشرہ کی طرف سے
انسانی حقوق اعزاز بھی حاصل کر چکے ہیں۔ انہیں 26 مارچ 2005 کو میمن تنظیم کی جانب
سے لائف ٹائم اچیومنٹ اعزاز بھی دیا گیا۔
عبدالستار ایدھی 8 جولائی سنہ 2016 کی رات 11 بجے گردوں کے
کام چھوڑجانے کے باعث 88 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ مرنے سے پہلے ایدھی نے یہ
وصیت کی تھی کی ان کی دونوں آنکھیں ضرورت مندودں کو عطیہ کر دی جائیں۔








No comments