انسانوں جیسی پہلی مخلوق
انسانوں جیسی پہلی مخلوق
سائنس دانوں کی نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ شاید اب اس نظریے کی اہمیت باقی نہیں رہی کہ موجودہ انسان کا ارتقا تقریباً دو لاکھ برس قبل صرف مشرقی افریقہ میں ہی ہوا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی )کے مطابق شمالی افریقہ میں زمانہ قدیم کے پانچ انسانوں کی ایسی باقیات دریافت ہوئی ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ابتدائی انسانی نسل کا وجود پہلے سے تسلیم شدہ دو لاکھ برس سے ایک لاکھ سال پہلے ہی رہا ہوگا۔
نئی دریافت کے مطابق انسانی نسل کا ابتدائی دوردولاکھ برس قدیم نہیں بلکہ تین لاکھ سال پرانا ہوسکتا ہے۔اس نئی تحقیق میں شامل سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس میں اس بات کا بھی اشارہ ملتا ہے کہ انسانی نسل کا ارتقا کسی ایک خاص مقام پر نہیں بلکہ پورے براعظم میں ہوا ہوگا۔
جرمنی میں انسانی ارتقا سے متعلق ادارے میکس پنیک انسٹیٹیوٹ سے وابستہ پروفیسر ڑاں چیکیز ہبلن کا کہنا ہے کہ اس نئی دریافت سے ہمارے ایک نسل کے طور پر ابھرنے سے متعلق نصابی کتابیں دوبارہ لکھنی پڑ سکتی ہیں۔ان کا کہنا تھاکہ یہ کہانی افریقہ میں کہیں ایڈن گارڈن میں تیزی سے ہونے والے عمل کی کہانی نہیں ہے۔ ہمارا خیال یہ ہے کہ یہ بتدریج پیشرفت تھی جس میں پورا بر اعظم شامل تھا۔ تو اگر کہیں ایڈن گارڈن تھا بھی، تو وہ پورا افریقہ تھا۔
پروفیسر ہبلن پیرس نے کالج ڈی فرانس میں ایک نیوز کانفرنس میں یہ بات کی ۔ انھوں نے اس موقع پر صحافیوں کو وہ انسانی باقیات بھی دکھائے جو انھوں نے مراکش کے جبل ارہود سے کھود کر نکالے تھے۔ اس میں انسانی کھوپڑی ، دانت اور لمبی ہڈیاں شامل ہیں۔
پرفیسر ہبلن نے جبل ارہود سے حاصل ہونے والے ہڈیوں پر دس برس سے زیادہ سے کام کرتے رہے ہیں۔اس علاقے سے حاصل ہونے والا نیا مواد،اےک اعلٰی تکنیک کے مطابق تقریباً تین سے ساڑھے تین لاکھ سال قدیم ہے جبکہ کھوپڑیوں کی وضع تقریباً موجودہ دور کے انسانوں ہی جیسی ہے۔
ابھی تک قدیم انسانوں کی حاصل ہونے والی باقیات کا تعلق ایتھوپیا سے ہے جو تقریباً دو لاکھ برس پرانی تصور کی جاتی ہیں۔لیکن اس نئی تحقیق کے مطابق انسانی تاریخ اس سے بھی پرانی ہوسکتی ہے۔
پروفیسر ہبلن کا کہنا ہے کہ پہلے پہل جدید انسان کی ابتدا کیسے ہوئی اس بارے میں ہمیں اپنے نقطہ نظر پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔اس کے مطابق موجودہ انسانی ارتقا سے پہلے ابتدا میں انسانوں کی مختلف نسلیں تھیں، جو دیکھنے میں ایک دوسرے سے مختلف تھیں اور سب کی اپنی خوبیاں اور خامیاں تھیں۔ اور ایسی مختلف نسلوں کا دیگر جانوروں کی طرح ہی ارتقا ہوا، ان کی شکلیں اورخدوحال ہزاروں سال میں تبدیل ہوتی گئیں۔
اس ٹیم میں شامل ایک سائنس دان ڈاکٹر شانین میکفران کا کہنا ہے کہ ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ بنی نوع انسان کی ابتدا مراکش میں ہوئی بلکہ جبل ارہود کی دریافت سے پتہ یہ چلتا ہے کہ اس طرح کے مقامات تین لاکھ برس پہلے پورے افریقہ میں پائی جاتی تھیں۔




No comments