چین پاکستان میں فوجی اڈہ بنا سکتا ہے،امریکی وزارت دفاع
چین پاکستان میں فوجی اڈہ بنا سکتا ہے،امریکی وزارت دفاع
امریکی وزارت دفاع نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ چین دنیا بھر میں اپنی فوجی صلاحیت بڑھا رہا ہے اور اس حوالے سے مختلف ممالک میں فوجی اڈے بنا سکتا ہے جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی )کے مطابق رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بیجنگ کے فوجی عزائم میں اضافہ ہو رہا اور وہ امریکہ کی برتری کو چیلنج دینے کی تیاری میں ہے۔امریکی وزارت دفاع کی سالانہ رپورٹ کے مطابق چین نے گذشتہ سال چینی فوج پیپلز لبریشن آرمی پر 180 ارب امریکی ڈالر خرچ کیے۔
رپورٹ کے مطابق چین پاکستان جیسے عسکری اہمیت کے حامل دیرینہ دوست ممالک میں اپنے اضافی فوجی اڈے قائم کرنے کی کوشش کرے گا۔پینٹاگون کی سالانہ رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال چین نے 180 ارب ڈالر خرچ کیا تھا
خیال رہے کہ چین کی فوج دنیا کی سب سے بڑی فوج ہے۔ گذشتہ سال اس نے اپنا پہلا غیرملکی اڈہ افریقی ملک جیبوٹی میں بنانا شروع کیا تھا۔ یہاں پہلے سے ہی دہشتگردی کے خلاف امریکی اڈہ قائم ہے۔
پینٹاگون نے اپنی رپورٹ میں جیبوٹی میں چینی فوجی اڈے کا باربار ذکر کیا ہے اور اس کے ممکنہ نئے فوجی اڈے کے قیام کے لیے پاکستان کا نام لیا ہے، جبکہ پاکستان پہلے ہی چین سے سب سے زیادہ ہتھیار خریدنے والا ملک ہے۔
پینٹاگون کے مطابق بحرالکاہل میں پہلے سے ہی چین کی سب سے بڑی بحریہ ہے جس میں 300 سے زیادہ جہاز ہیں۔ تاہم چین ٹکنالوجی اور عسکری صلاحیت میں ابھی بھی امریکہ اور جاپان سے پیچھے ہے۔اس کے علاوہ چین کا امریکہ کے ساتھ جنوبی بحیرئہ چین کے خطے میں مصنوعی جزائر بنانے اور وہاں فوجی سرگرمی پر سخت اختلاف ہے۔




No comments