تازہ ترین

فیس ماسک وائرس کی منتقلی کے خلاف کتنے مددگار ہیں، تحقیقی نتائج


فیس ماسک وائرس کی منتقلی کے خلاف کتنے مددگار ہیں، تحقیقی نتائج




یوں تو آج کل کوڈ 19وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، اور یہ بھی حقیقت ہے کہ تاحال اس وبا کا کوئی علاج دریافت نہیں ہو سکا ہے۔ لہذا اس بیماری سے بچنے کے لئے ابھی تک جو طریقہ علاج سمجھ میں آیا ہے وہ احتیاط ہے، اور محققین کی نظر میں اس جان لیوا وائرس کے خلاف چہرے کے ماسک کا استعمال لازمی اور اوّل احتیاط ہے۔

مختلف جریدوں اور ذرائع سے اکھٹی کی گئی معلومات کے مطابق سائنسدانوں کا خیال ہے کہ انھوں نے یہ پتہ چلا لیا ہے کہ چہرے کے ماسک وائرس کی منتقلی کو محدود کرنے میں کیوں مدد کرسکتے ہیں۔

اسی حوالے سے امریکہ کی نارتھ کیرولائنا یونیورسٹی میں ہوئی ایک حالیہ تحقیق کا اگر مختصر اور آسان احوال دیں تو اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ناک وہ ابتدائی مقام ہے جہاں سے وائرس داخل ہونے کے بعد ناک کے خلیات کو متاثر کرتا ہے، جس کے بعد یہ جسم کے دیگر اندرونی حصوں یعنی حلق اور پھیپھڑوں وغیرہ میں داخل ہوتا یے۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ ناک کے خلیات میں ایس 2 پروٹین زیادہ ہوتے ہیں جن سے یہ وائرس خود کو منسلک کرتا ہے اور اسی سے ممکنہ وضاحت ہوتی ہے کہ ناک اس انفیکشن کا پہلا مرکز کیوں بنتا ہے۔

مختصر یہ کہ ناک وہ ابتدائی مقام ہوتا ہے جہاں سے کوئی بھی وائرس آسانی سے داخل ہو سکتا ہے اور پھیپھڑوں کے امراض پھیلنا شروع ہوتے ہیں، اگر نتھنوں کی گزرگاہ کو فیس ماسک سے تحفظ ملے گا وہاں وائرس کا امکان بھی کم ہوگا۔

اسی طرح گزشتہ ماہ 26 مئی کو کینیڈا کی میکماسٹر یونیورسٹی کی تحقیق کے نتائج جریدے اینالزآف انٹرنل میڈیسین میں شائع ہوئے تھے، جس میں کپڑے کے ماسک کو زیادہ موثر قرار دیا گیا تھا،  خاص طور پرایسے ماسک جراثیم کے خلاف زیادہ فائدہ دے سکتے ہیں جن میں سوتی کپڑے کی کئی تہیں استعمال کی گئی ہوں۔

اس تحقیق کے مطابق سوتی کپڑے کی3 سے 4 تہوں سے بنا ہوا ماسک 99 فیصد تک ذرات کو بلاک کردیتا ہے بلکہ یہ میڈیکل ماسک جتنا ہی موثر ہوتا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ اہم نقطہ یہ نہیں کہ کچھ ذرات ماسک میں داخل ہو جاتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ کچھ ذرات رک جاتے ہیں، خاص طور پر وہ جو ماسک پہننے والا کھانسی اور چھینک کے ذریعے خارج کرتا ہے۔

اس  تحقیق  میں دہائیوں پرانے شواہد سمیت نئے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا اور ایسے ٹھوس ثبوت دریافت کیے جن سے ثابت ہوتا ہے کہ کپڑے اور کپڑے سے بنے ماسک ہوا اور سطح میں جراثیموں کی آلودگی کی شرح کم کرتے ہیں۔

گزشتہ ماہ 28 مئی کو ایک معتبر طبی جریدے دی لانسیٹ کی مختلف ممالک میں شائع ہونے والی طبی رپورٹس کا تجزیہ کیا گیا تھا۔ اس تجزیے میں بھی محققین کا کہنا تھا کہ لوگوں کے درمیان کپڑے سے بنے فیس ماسک کا استعمال موثر ثابت ہوسکتا ہے۔

لہذا تاحال احتیاطی تدابیر جیسے کہ ماسک کا استعمال اور سماجی فاصلہ اس مرض کے خلاف موثر علاج سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم اس وباء کے خلاف ٹائم اینڈ سپیس پی کے بھی آپ سے اپنے روز مرہ کے کاموں میں احتیاط برتنے کی اپیل کرتا ہے۔

No comments