تازہ ترین

پاکستان میں 20جولائی سے انسداد پولیو مہم کا آغاز

پاکستان میں 20 جولائی سے انسداد پولیو مہم کا آغاز


پاکستان میں  4 ماہ کے وقفے کے بعد آج یعنی 20 جولائی سے دوبارہ انسداد پولیو مہم کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔ یاد رہےکہ کورونا وائرس کی وجہ سے 20 مارچ کو ملک میں انسداد پولیو مہم معطل ہوگئی تھی۔

اطلاعات کے  مطابق پہلے مرحلےمیں جن علاقوں میں پولیو مہم کو چلایا جائے گا ان میں  کراچی، فیصل آباد،  اٹک ، جنوبی وزیرستان اور کوئٹہ  کےکچھ حصے شامل ہیں۔  ان علاقوں میں پانچ سال سے کم عمر کے آٹھ لاکھ  کے قریب بچوں کو پولیو ویکسین دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔جبکہ اس مہم میں آٹھ ہزار ہیلتھ ورکرز حصہ لیں گے۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق  اگست اور ستمبر میں بڑے پیمانے پر انسداد پولیو مہم چلائی جائے گی۔ جبکہ رواں سال کی آخری سہ ماہی میں انسداد پولیو مہم کا تیسرا مرحلہ شروع ہوگا۔  نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کا کہنا ہے کہ والدین  پولیو مہم میں بڑھ چڑھ کا حصہ لیں اور اپنے بچوں کو اس وائرس سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں۔

اگر صوبہ پنجاب کی بات کی جائے تو  ابتدائی طور پر پولیو مہم  فیصل آباد کی 44 اور اٹک کی 14 یونین کونسلز میں شروع کی جائے گی۔ اسطرح سے پنجاب کی 58 یونین کونسلز میں 3 لاکھ 17 ہزار 783 بچوں کو پولیو سے بچاؤ کی ویکسین  دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ پنجاب میں  رواں سال اب تک 4 پولیو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

 اس حوالے سے گزشتہ دنوں وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد اور چیف سیکریڑی پنجاب جواد رفیق ملک کی زیر صدارت  اجلاس  بھی منعقد ہوا تھا، اجلاس میں چیف سیکریڑی پنجاب کا کہنا تھا کہ  ڈپٹی کمشنرز اضلاع میں انسداد پولیو مہم کی خود نگرانی کریں گے اور کارکردگی کا ماہانہ بنیادوں پر جائزہ لیا جائے گا۔ اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا تھا کہ  17 اگست سے صوبے کے دیگر اضلاع میں پولیو مہم شروع کرنے کے لئے جامع حکمت عملی مرتب کر لی گئی ہے۔

دوسری جانب صوبہ خیبر پختونخوا کے دارلحکومت پشاور  کے پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتےہوئےوزیر صحت تیمور جھگڑا کا کہنا تھاکہ 20 جولائی سے 5 روزہ انسداد پولیو مہم شروع ہورہی ہے۔ انہوں نےکہاکہ  پولیو مہم کے لئے 609 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، ٹیموں کی نگرانی کے لئے 167 ایریا انچارج تعینات ہونگے۔ وزیر صحت کےمطابق جنوبی وزیرستان میں انسداد پولیو مہم کا آغاز ہوگا، جہاں 78 ہزار بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرےپلائے جائیں گے۔

تیمور جھگڑا نے بتایا کہ پولیو ورکرز کی سکیورٹی  کے خاطر خواہ انتظامات کئے گئے ہیں  اور کورونا وائرس  کی وجہ سے ورکرز کو خاص تربیت بھی دی گئی ہے۔ ورکرز کو  ماسک ،  ہیند  سینی ٹائزر، انفرا ریڈ تھرمامیٹر  فراہم کرنے سمیت سماجی فاصلہ  رکھنے اور ایس او پیز پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایات کی گئی ہیں۔ 

ادھر بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ کی  دس یونین کونسلوں میں یہ  مہم چلائی جائے گی جس دوران ایک لاکھ 10 بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرےپلائے جائیں گے۔جبکہ صوبہ سندھ کے دارلحکومت کراچی کے مختلف علاقوں میں بھی 2 لاکھ 60 ہزار بچوں کو   پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ کراچی کے دو اضلاع  وسطی اور  غربی کی 22  سے زائد یونین کونسلوں میں پولیو ویکسی نیشن کی جائے گی۔


قومی میڈیا   سے لی گئی معلومات کے مطابق رواں سال اب تک ملک میں مجموعی پولیو کیسز کی تعداد 56 ہے۔ گزشتہ برس سنہ 2019 میں پولیو کے 144 کیسز سامنے آئے تھے۔ جبکہ سنہ 2018 میں یہ تعداد 12 اور 2017 میں 8 تھی۔

واضع رہےکہ پولیو ایک انتہائی خطرناک مرض ہے جو پانچ سال سےکم عمر کے بچوں کو اپنی لپیٹ میں لیتا ہے۔ یہ مرض اعصابی نظام پر اثر انداز ہوکر معذروی بلکہ موت کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ پولیو کی بیماری کا ابھی تک کوئی علاج دریافت نہیں ہوسکا ، ویکسینیشن ہی بچوں کو پولیو کی بیماری سے  محفوظ رکھنے کا سب سےموثر طریقہ ہے۔پولیو  کے قطروں  کی مدد سے ہی  پولیو وائرس سے بچاؤ اور بچوں کی حفاظت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

No comments