کورونا وائرس قدرتی ہے یا لیباٹری میں تیار ہوا؟ ایک سوال
کورونا وائرس قدرتی ہے یا لیباٹری میں تیار ہوا؟ ایک سوال
پاکستان میں آج کل کورونا وائرس سے متعلق ایک سوال کافی طول
پکڑ چکا ہے جو کافی حد تک بحث کا ذریعہ بھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کورونا وائرس
قدرتی ذریعے سے آیا جوکہ سائنسدان بھی کہہ رہے یا پھر لیباٹری میں تیار ہوا؟۔ اصل
میں یہ سوال امریکہ اور چین کے درمیان چل رہی پروپیگینڈا جنگ کا بھی حصہ ہے۔
اگر دیکھا جائے تو ووہان چین کا وہ شہر ہے جہاں سب سےپہلے
وائرس کا پتہ چلا تھا، اور کورونا وائرس پر سب سے پہلے قابو بھی اسی شہر میں پایا
گیا تھا۔ مگر اس وائرس کے آغاز کی اصل جگہ متنازعہ ہے۔ یا پھر کہہ لیں کہ یہ وائرس
اصل میں شروع کس مقام سے ہوا اس بات کا تعین ابھی تک نہیں ہو سکا ہے۔
دنیا بھر میں پھیل چکے اس وائرس کے مرکز کے بارے میں سوال
اٹھانا ایک لازمی امر ہے یہ کوئی شوق کی بات نہیں۔
چین کے شہر ووہان کی ہوانان سی فود مارکیٹ جہاں پر سی فوڈ
کے علاوہ بہت سی اقسام کے زندہ اور مردہ جنگلی جانور لذیز کھانوں کی غرض سے فروخت
کئے جاتے ہیں۔ ابتدائی دنوں میں اس مارکیٹ کو کورونا وائرس کے آغاز کا مقام قرار
دیتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ یہ وہ سی فوڈ مارکیٹ ہے جہاں سے وائرس جانوروں سے
انسان میں منتقل ہوا۔ تاہم چینی حکام کی جانب سے اس مارکیٹ کو بند بھی کر دیا گیا
تھا۔
لیکن غیر ملکی میڈیا کے مطابق اس مارکیٹ سے لئے گئے مختلف
ٹیسٹوں کے بعد چین اب اس نظریے کو مسترد کرتا ہے۔ مارکیٹ سے لئےگئے ٹیسٹوں میں
وائرس کے اثرات تو ملے ہیں مگر وباء کا وجود نہیں مل سکا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل
ذکر ہے کہ زیادہ تر سائنسدان اس بات پر متفق ہیں کہ ابتدائی مقام ہوانان مارکیٹ یا
کوئی اور مگر وائرس جانوروں ہی سے انسان میں منتقل ہوا ہے۔
اس کے علاوہ ووہان میں ڈبلیو آئی وی لیباٹری سے متعلق بھی
ایک نظریہ زیر بحث ہے۔ ہوانان سی فوڈ مارکیٹ سے تقریبا چالیس منٹ کی مسافت پر واقع
ووہان انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی کی عمارت اس دوسرے نظرئیے کو مرکز بن تھی۔ ماضی میں
اسطرح کے شکوک و شبہات اور الزامات نے بھی جنم لیا تھا کہ شاید وائرس اس لیباٹری
سے لیک ہوا ہے۔ مگر اس بارے میں ایک بھی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہے۔
ڈبلیو آئی وی میں چمگادڑوں کی بہت سی اقسام کے نمونے موجود
ہیں اور یہ چمگادڑوں کے وائرس پھیلنے کے معالعے کی سب سے بڑی جگہ ہے۔ حال ہی میں
شائع ہوئی ایک تحقیق میں ایسی سینکڑوں چمگادڑوں کی تفصیلات بتائی گئی ہیں جن میں
یہ وائرس موجود ہے۔ تحقیق کی ایک شریک مصنفہ ووہان انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی کی ہیڈ
شی ژنگلی بھی ہیں۔ شی ژنگلی کو بیٹ وومن بھی کہا جاتا ہے۔
یاد رہےکہ پروفیسر شی ژنگلی نے ہی ایک چمگادڑ سے سارس کوو-1
کے قریب ترین جنیٹکس دریافت کئے تھے۔
سارس وباء کیا تھی؟
سانس کی تکلیف پیدا کرنے والا سارس وائرس سنہ 2003 میں چین
سے پھیلا تھا، اس وباء سے 8 ہزار 100 لوگ متاثر ہوئے تھے اور صرف 6 ماہ میں 774
ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی تھیں۔ کہا جاتا ہےکہ سارس بھی کورونا وائرس کی ہی ایک قسم
تھی جس نے 26 ممالک کو متاثر کیا تھا۔
ایک اندازے کے مطابق سارس سے تقریبا 30 ارب ڈالر کا نقصان
ہوا تھا۔ بھلے کورونا وائرس کو بھی سارس ہی کی ایک قسم قرار دیا جاتا ہے، مگر ان
دونوں میں نمایاں فرق انسانی جسم کے اندر کام کرنے کا طریقہ کار ہے۔ سارس کا
انفیکشن پوشیدہ نہیں رہتا تھا اور اس بیماری کی علامات نمایاں تھیں، جس کی وجہ سے
سارس کے مریضوں کو شناخت کے بعد علاج کے لئے علیحدہ کرنا آسان تھا۔
کورونا وائرس کیا ہے؟
سارس کوو-2 کے نام سے پہچانے جا رہے اس وائرس کو کورونا اس
لئے کہا جاتا ہے کیونکہ اسکی جلد پر نوکیلے کانٹے ہوتے ہیں۔ کورونا وائرس جس بھی
انسانی جسم میں داخل ہوتا ہے تو کورونا کی پروٹین والی نوکیں انسانی جسم کے خلیوں
میں پیوست ہو جاتی ہیں۔
اس پروٹین والی جلد کی نوکوں کی ایک اور خصوصیت سے متعلق
خیال ہے کہ یہ وائرس انسانی خلیوں میں پیوست ہو کر ان پر کنٹرول حاصل کر لیتا ہے
اور پھر اندر ہی اندر ان کے چربے بنانا بھی شروع کر دیتا ہے۔
ڈبلیو آئی وی لیباٹری سے وائرس کے آغاز سےمتعلق امریکی دعوے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 30 اپریل کو اپنے ایک بیان میں
کہا تھا کہ ان کے پاس اس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ یہ وائرس ووہان انسٹی ٹیوٹ آف
وائرولوجی سے ہی شروع ہوا ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بات اس وقت کہی جب ان سے ایک رپورٹر
نے سوال پوچھا کہ کیا آپ کو مکمل یقین ہے کہ کورونا ڈبلیو آئی وی سے شروع ہوا
تھا؟۔
اس کے بعد امریکا کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بھی اپنے
ایک بیان میں چائنا پر یہ الزام عائد کیا تھا کہ چین ناقص المعیار لیباٹریاں چلانے
میں ایک تاریخی شہرت رکھتا ہے۔ مختصر یہ کہ امریکا کی جانب سے یہ دعوے کئے گئے تھے
کہ وائرس کے اس لیباٹری سے لیک ہونے کے ڈھیروں ثبوت موجود ہیں۔ لیکن امریکا کی
جانب سے تاحال ایک بھی ثبوت نہیں دیا گیا ہے۔
چمگادڑ سے وائرس کیسے پھیلتا ہے؟ ماہرین کی رائے
فروری کے مہینے میں جاری ایک رپورٹ میں ایسا بھی کہا گیا
تھا کہ چین کے کسی علاقے میں ہوا میں اڑتی ایک چمگادڑ نے اپنی لید کے ذریعے کورونا
وائرس چھوڑا ہوگا جسے پینگولین نامی ایک جانور نےکھایا ہوگا۔ اور یہ وائرس دوسرے
جانوروں میں پھیلا اور متاثرہ جانور انسان کے ہاتھ لگا اور اسطرح سے یہ بیماری
انسانوں میں پھیل
کر وباء کی شکل اختیار کرنے لگی۔
کر وباء کی شکل اختیار کرنے لگی۔
زولوجیکل سوسائیٹی آف لندن کے پروفیسر اینڈریو
کنگھم کا کہنا تھا کہ جنگل کے کئی جانوروں میں یہ وائرس ہو سکتا ہے خاص کر
چمگادڑیں جن میں کئی طرح کے کورونا وائرس پائے جاتے ہیں۔ چمکاڈریں لمبی پرواز کرتی
ہیں اور وائرس کو بڑے پیمانے پر پھیلانے کی ماہر ہیں۔
یونیورسٹی کالج آف لندن کی پروفیسر کیٹ جونز کےمطابق چمگادڑیں لمبی اور تھکا دینے والی اڑان
کی عادی ہوتی ہیں اور ڈی این کو پہنچنے والے نقصان کو خود بخود ٹھیک کر لیتی ہیں۔
ہوسکتا ہے کہ اسی صلاحیت کی بدولت اپنے جسم میں کئی قسم کے وائرس کا بوجھ برداست
کر لیتی ہوں، لیکن یہ محض ایک خیال ہے۔
یونیورسٹی آف نوٹنگھم کے پروفیسر جوناتھن ہال کا کہنا تھا کہ اگر چمگادڑ کی طرز زندگی کو
دیکھا جائے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ ان میں وائرس ہوسکتے ہیں اور چونکہ چمگادڑ
دودھ پلانے والا جانور ہے اس لئے وہ براہ راست وائرس انسانوں میں بھی منتقل کر
سکتے ہیں۔
دوسری
جانب ایسٹ اینگلیا یونیورسٹی کی پروفیسر ڈیانا بیل کا کہنا تھا کہ شاید ہمیں یہ
کبھی معلوم نہ ہو سکے کہ انسانوں میں تیزی سےپھیلنے والی یہ جان لیوا وبا کب ،
کہاں اور کیسے وجود میں آئی۔ مگر ہم اس طوفان کو آنے سے روک سکتے ہیں۔









No comments