تازہ ترین

کیا پاکستان میں کورونا کا زوال ہے؟ چند دیگر احوال اور کچھ ذکر دیہی علاقوں کا بھی

کیاپاکستان میں کورونا کازوال ہے؟بات چنداندازوں کی اورکچھ ذکر دیہی علاقوں کابھی




اگر دیکھا جائے تو بظاہر یوں لگتا ہے کہ دنیا بھر میں رواں سال یعنی 2020 کورونا کی نظر ہو گیا ہے۔ پاکستان میں بھی اس سال لا تعداد لوگ بے روزگار ہوئے، کچھ پرائیویٹ ادارے بند ہوگئے اور جو چلتے رہے وہاں بھی تنخواہوں کی کٹوتیاں سننے کو ملیں۔ مختصر یہ کہ کورونا وباء ہر شعبہ سے وابسطہ انسان کے لئے مشکلات کا سبب بنی۔


مگر سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں کورونا کا عروج ختم ہوگیا ہے یا چل رہا ہے؟ اسی حوالے سے وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے 9 جولائی کو قومی میڈیا کے ادارے کو انٹرویو کے دوران بتایا کہ لگ رہا ہےکہ وباء کا عروج اب ختم ہوچکا ہے، ساتھ ہی انہوں نے اسے سمارٹ لاک ڈاؤن کے مثبت نتائج بھی قرار دیا۔



ڈاکٹر یاسمین راشد کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں اب کورونا کیسز کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وائرس کی انتہا کا وقت جون کےمہینےمیں گزر چکا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان میں کورونا متاثرین کی سب سے زیادہ تعداد 13 جون کوریکارڈ کی گئی جو کہ 6 ہزار 825 تھی۔ ملک میں 12 اور 13 جون کو وباء کا سب سے زیادہ دباؤ دیکھا گیا تھا، اس دوران شدید بیمار مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا تھا۔


دوسری جانب حکومت کی طرف سے بتایا گیا تھا کہ کورونا کی انتہا کے دن جولائی یا اگست کے مہینوں میں ہو سکتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے 8 جون کو کورونا کی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ہمارے خیال میں وبا جولائی کے آخر یا اگست کے شروع میں عروج پر جا سکتی ہے۔


ذکر کورونا کے پھیلاؤ یا خاتمے سے متعلق چند اندازوں اور ماضی کی وباؤں کا



کورونا آخر ختم کب ہوگا، یہ بات تو صاف ہے کہ اس سوال کا جواب ہر پاکستانی جاننا چاہتا ہے اور اس حوالے سے متضاد مشاہدے بھی سامنے آ چکے ہیں۔ اپریل تک جب پوری دنیا اس وائرس کی وجہ سے گھروں میں محصور ہوچکی تھی تب ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیدروس ادہانوم نے پریس کانفرنس کے دوران 
بتایا تھا کہ یہ تو اس جنگ کا آغاز ہے۔




اس وقت دنیا بھر کے سائنسدان کورونا وائرس کے خلاف ویکسین بنانے میں مصروف ہیں۔ لیکن اگر رواں برس 2020 میں ویکسین دریافت ہو بھی گئی تو یہ 2021 کے وسط سے پہلے تیار نہیں ہو سکے گی۔ اگر بہت زیادہ امید بھی رکھی جائے تو بھی زندگی معمعول پر آنے میں کم از کم تین ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ اور جس تیزی سے یہ وائرس پھیل رہا ہے ممکن ہے کہ یہ کبھی بھی ختم نہ ہو۔


برطانیہ کے امپیریل کالج آف لندن نے حکومت کے مالی تعاون سے چند اداروں اور ماہرین کے ساتھ ایک الگورتھم منصوبے کے تحت پاکستان سمیت متعدد ممالک میں کورونا سے متعلق رپورٹ مرتب کی تھی۔ جون میں شائع ہوئی اس رپورٹ کے اندر پاکستان میں کورونا سے متعلق حیران کن تخمینے دئیے گئے تھے۔ الگورتھم منصوبے کو وژن ون اور وژن ٹو کے نام سے 6 اقسام میں تیار کیا گیا تھا۔




وژن ون کے الگورتھم تخمینوں کے مطابق پاکستان میں کورونا کی وباء اگست کے وسط تک عروج پر پہنچ جائے گی، اوردس اگست کو ڈیرھ لاکھ سے بھی زائد اموات ہونگی۔ اسی طرح وژن ٹو کے الگورتھم تخمینوں میں بھی پاکستان میں اگست 2020 کو یہ وباء عروج پر پہنچے گی، اور 10 اگست کو سب سے زیادہ یعنی 77 ہزار اموات ہوسکتی ہیں۔


الگورتھم چارٹ میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ جنوری 2021 تک کورونا پاکستان میں تقریبا ختم ہو چکا ہوگا، تاہم اس وقت ملک میں 22 سے 23 لاکھ تک لوگ وائرس کے باعث مر چکے ہیں۔ یہ بات بھی واضع رہے کہ مذکورہ منصوبہ دنیا بھر میں تنقید کا نشانہ بھی رہا۔


اس سے قبل اپریل کے آخر میں سنگا پور یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اینڈ ڈیزائن نے ایک آرٹی فیشل انٹیلی جنس ڈیٹا کے تجربے سے یہ پیشگوئی کی تھی کہ پاکستان میں کورونا کے کنٹرول ہونے میں مزید ڈیرھ ماہ کے قریب وقت لگ سکتا ہے۔ سنگا پور یونیورسٹی نے تخمینہ لگایا تھا کہ پاکستان میں 8 جون تک کورونا وباء پر کافی حد تک قابو پا لیا جائے گا۔ یونیورسٹی نے یہ بھی واضع کیا تھا کہ یہ تجربہ اور تخمینہ صرف تعلیمی مقاصد کے لئے ہے جس میں غلطی کا امکان موجود ہے۔




دنیا میں پہلے بھی بہت سی وبائیں آتی جاتی رہی ہیں۔ ان میں سے اگر چند نہ بھولنے والی بیماریوں کا ذکر کریں تو ایک بہت بڑی تعداد میں افراد بلیک ڈیتھ یعنی طاعون سے مارے گئے تھے۔ سنہ 1918 سے 1920 تک ہسپانوی فلو تین برس رہا تھا اور برطانوی نشریاتی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ فلو پانچ کروڑ افراد کی جانب لے گیا تھا۔ سنہ 2003 میں آئی بیماری سارس سے صرف چھ ماہ میں 774 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ اسی طرح کوڈ 19 بھی تیزی سے دنیا میں پھیل چکا ہے۔


پاکستان کے دیہی علاقوں میں کیا انتظامات ہیں



یوں تو پاکستان کے شہری علاقے دیہی آبادیوں کی نسبت کورونا وائرس کا کافی زیادہ شکار ہوئے ہیں۔ مگر اس وباء کے مزید پھیلاو کی صورت میں سوال یہ ہے کہ دیہی علاقوں میں کورونا کے خلاف کیا انتظامات ہیں۔




سنہ 2017 کی مردم شماری کے مطابق پاکستان کے سب سے زیادہ آبادی والے صوبے پنجاب کے دیہاتوں میں 5 کروڑ 60 لاکھ کے قریب لوگ رہتے ہیں۔ اگر متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا اور یہ پاکستان کے دیہی علاقوں تک پھیل گئے تو اس وبا سے نمٹنے کے لئے صوبوں کی مشکلات میں کافی حد تک اضافہ ہوجائے گا۔


مارچ 2020 میں شائع ہوئی برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ میں 19-2018 کے اکنامک سروے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہےکہ پاکستان کے دیہاتی علاقوں کے ہسپتالوں میں مریضوں کو داخل کرنے کے لئے بستر ناکافی ہیں۔ پاکستان کے دیہاتوں میں ہر 1600 افراد کے لئے ایک بستر موجود ہے جو کہ تشویش کی بات ہے۔


رپورٹ کے مطابق دیہاتوں میں رہنے والی 57 فیصد آبادی کے لئے دیہی مراکز صحت کی کل تعداد 700 کے قریب ہے۔

No comments