تازہ ترین

آرڈیننس معاملے پر قومی اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں کے اعتراضات

آرڈیننس معاملے پر قومی اسمبلی اجلاس میں  اپوزیشن جماعتوں کے اعتراضات




بھارتی جاسوس کلبھوشن یادھو کو سزا کے خلاف اپیل کا حق دینے  سے متعلق آرڈیننس پر آج یعنی 23 جولائی کو قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری  کا کہنا تھاکہ حکومت نے آرڈیننس کی صورت میں کلبھوشن کو این آر او دیا، جبکہ مسلم لیگ نواز سے سینئر رہنما خواجہ آصف نے  حکومت پر کلبھوشن کی سہولت کاری کا الزام لگایا ہے۔


واضع رہےکہ رواں سال مئی میں پاکستان کی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایک آرڈیننس کے ذریعے فوجی عدالتوں سے فرد جرم یا  سزا یافتہ غیرملکیوں کو ہائی کورٹ کے ذریعے نظر ثانی کی اجازت دی تھی۔ پاکستان نے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عملدرآمد کے لئے 28 مئی کو انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس ریویو اینڈ ری کنسیڈریشن آرڈیننس 2020 جاری کیا تھا۔


آرڈیننس کےتحت 60 روز کے اندر  درخواست کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میں نظرثانی اپیل دائر کی جاسکتی ہے۔ لہذا اس آرڈیننس کے سیکشن 20 کے تحت کلبھوشن یادھوبھارتی ہائی کمیشن کے اہلکار یا قانونی اختیار رکھنے والے نمائندے کے ذریعے نظر ثانی کی اپیل دائر کر سکتے ہیں۔


آرڈیننس معاملےپر بلاول بھٹو زرداری کا قومی اسمبلی میں اظہار خیال



اسی معاملے پر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہناہے کہ  عمران خان کہتے تھے کہ وہ کسی کو این آر او نہیں دیں گےمگر جتنے این آر او انہوں نے دئیے ہیں پاکستان کی تاریخ میں کسی  وزیراعظم یا آمر نے نہیں دئیے۔ وزیراعظم نے تازہ ترین این آر او بھارتی جاسوس کلبھوشن یادھو کو 28 مئی کے روز جاری کئے گئے آرڈیننس کی صورت میں دیا ہے۔




بلاول بھٹو نےکہاکہ حکومت نے آرڈیننس کےبارے میں پاکستان کی عوام کو نہیں بتایا اور نہ ہی اس ایوان  اور اراکین کو اعتماد میں لیا گیا۔ کلبھوشن کو ریلیف دینے کی بات جب سینٹ میں اٹھائی گئی اور میں نے پریس کانفرنس میں پوچھا تو یہ آرڈیننس پیش کر دیا گیا۔


پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ تحریک انصاف کی رہنما شریں مزاری  کا کہنا تھاکہ ہمیں عالمی عدالت انصاف کا دائرہ کار نہیں ماننا چاہیئے تھااور اگر حکومت عالمی عدالت کے دائرہ کار کو تسلیم نہیں کرتی تو اسکا مطلب یہ انہیں کہ کلبھوشن کو پاکستان کے قانون سے این آر او دے دیں۔ بھارتی جاسوس کو این آر او دے رہے ہیں، بھارتی پائلٹ کو چائے پلا کر واپس بھیج دیا گیا۔


کلبھوشن کےعلاوہ حکومت نے احسان اللہ احسان کو بھی این آر او دے کر اسے آزاد کر دیا ، میں نے ان کی رہائی کے معاملے پر بھی سوال کیا تھا لیکن اس کی رہائی کا جواب آج تک ایوان میں نہیں دیا گیا ۔ بلاول بھٹو نے یہ بھی کہا کہ اگر آج بھی وزیراعظم کے خلاف پریس کانفرنس کرتے ہیں تو احسان اللہ احسان کی طرف سے دھمکی آتی ہے،  وزیراعظم آج سے نہیں شروع دن سے دہشتگردوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔


حکومت ہمارے خون کا جواب نہ دے مگر سانحہ اے پی ایس میں شہید بچوں کے والدین کو جواب دینا پڑے گا کہ  پاکستان کا سب سے بڑا دہشتگرد کیسے باہر نکلا۔


اپنی بات جاری رکھتےہوئے بلاول بھٹو نےکہا کہ جہانگیر ترین کو بھی بیس ریپڈ ٹرانزٹ ، بلین ٹری سونامی، آٹا اور چینی چوری پر این آر او دیا گیا۔اب تو سپریم کورٹ نے بھی حکومت اور نیب کےگٹھ جوڑ پر فیصلہ سنا دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ نیب کو سیاسی انجینئرنگ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔


حکومت کیوں ایک بھارتی جاسوس کی سہولت کار بنی ہوئی ہے، خواجہ آصف



ادھر مسلم لیگ نواز کے رہنما خواجہ آصف نے آرڈیننس کے معاملے پر  قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئےکہا کہ  وزیراعظم بتائیں کہ اب کیوں پاکستان کی غیرت کا سودا کیا جار ہا ہے، حکومت کیوں بھارتی جاسوس کی سہولت کار بنی ہوئی ہے۔ قانون سازی کر کے کلبھوشن یادھو کو کیوں رعایت دی جارہی ہے۔




خواجہ آصف نے کہا کہ کلبھوشن کی وجہ سے ہم پر مودی کے یار کے الزامات لگتے تھے، ہمارے لئے تو کلبھوشن کو گالی بنا لیا گیا تھا۔ لیکن آج مودی کا یار کون ہے، اور ان کے آگے سجدہ کون کر رہا ہے۔


ان کا کہنا تھا کہ کلبھوشن پاکستان کو مجرم ہے، وہ اس ملک میں دہشتگردی کرتا رہا ہے ۔ اس نے اقبال جرم کیا ہے اور عدالت نے اسے سزا دی ہے۔ کشمیر مقتل بنا ہوا ہےلیکن ہم کبھی تجارت کھول رہےہیں اور کبھی کلبھوشن پر آرڈیننس نکالتے ہیں۔ بھارت کے ساتھ نرمی نہ کی جائے، کیا بھارت نےکبھی کسی معاملےپر نرمی کی ہے؟  خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ یہ قانون سازی قومی حمیت اور غیرت کے خلاف ہے، ہمیں یہ قانون منظور نہیں۔


معاملےپر حکومتی رہنما شیریں مزاری کا موقف






بلاول بھٹو سے قبل قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے تحریک انصاف کی رہنما اور وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ  ہمیں عالمی عدالت انصاف کا دائرہ کار تسلیم نہیں کرنا چاہیے تھا۔


تحریک انصاف کی رہنما اور وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہاہے کہ کلبھوشن کے کیس میں عالمی عدالت انصاف میں جانا غلطی تھی،ن لیگ والے بتائیں وہ کلبھوشن کیس میں عالمی عدالت انصاف کیوں گئے۔

انہوں نے کہا کہ ن لیگ نے عالمی عدالت انصاف کو خط لکھاتھا،ن لیگ نے عالمی عدالت انصاف کادائرہ اختیار تسلیم کیاتھا، ہم پوچھ رہے ہیں ن لیگ نے کیوں عالمی عدالت انصاف کادائرہ اختیار تسلیم کیا ؟

وفاقی وزیر انسانی حقوق نے کہاکہ کلبھوشن کیس میں عالمی عدالت انصاف کا دائرہ کار کو تسلیم نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔

No comments