ناروے کی مسجد پر فائرنگ کیس کے فیصلے میں 21 سال قید
ناروے کی مسجد پر فائرنگ کیس کے فیصلے میں 21 سال قید
ناروے کی ایک عدالت نے ایک ایسے شخص کو21 برس کی سزائے قید سنا
دی ہے، جس نے گزشتہ برس اپنی سوتیلی بہن کو ہلاک کرنے کے بعد ناروے کے دارالحکومت اوسلو
کی ایک مسجد پر فائرنگ کی تھی، تاہم اس فائرنگ کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا
تھا۔
اگست2019 میں ناروے کے دارالحکومت اوسلو کے مغرب میں واقع بیرم کے النور
اسلامک سنٹر پر 22سالہ فلپ مانشاؤس نے فائرنگ کی تھی۔پولیس کا کہنا ہے کہ ان کو ملے شواہد کے مطابق مانشاؤس، برینٹن ٹیرنٹ سے متاثر ہوا تھا، جس نے مارچ
2019 میں نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں 2 مساجد پرحملہ کیا تھا۔
فلپ مانشاؤس کا
عدالت میں کہنا تھا کہ اسے افسوس ہے کہ وہ اس حملے میں زیادہ نقصان نہیں کر سکا۔ واضع
رہے کہ ناورے کی تاریخ میں کسی مجرم کو سنائی جانے والی یہ طویل ترین سزا ہے۔



No comments